صیہونیوں کی جنونیت،اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کیلیے سزائے موت کے بل کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیل کی کنیسیت، یعنی ملک کی پارلیمنٹ یا قانون ساز اسمبلی، نے ایک متنازعہ بل کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے تحت وہ فلسطینی، جن پر 7 اکتوبر 2023 کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے، عدالت کے ذریعے سزائے موت کے لیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کو پارلیمنٹ میں 19 قانون سازوں کی حمایت حاصل ہوئی اور کوئی مخالف ووٹ نہیں دیا گیا۔ بل کے تحت ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے گی، جس کی صدارت ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج کریں گے۔ یہ عدالت ایسے جرائم کی سماعت کرے گی جن میں شامل ہیں، نسل کشی (Genocide)، ریاست کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا،دشمن کی مدد کرنا اور دہشت گردی سے متعلقہ دیگر جرائم جیسے مقدمات دیکھے گا۔
بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس عدالت میں سزائے موت دی جا سکتی ہے اور ملزمان کو مستقبل کے سیاسی مذاکرات یا قیدیوں کے تبادلے میں شامل نہیں کیا جائے گا، عدالت کی سماعتیں براہِ راست آن لائن نشر کی جائیں گی اور اسرائیل کے ریاستی آرکائیوز میں محفوظ رکھی جائیں گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، دوسری جانب غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 71,400 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 171,000 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اب یہ بل پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کو مزید جائزے کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ اسے دوسری اور تیسری ریڈنگ میں پیش کیا جا سکے، اسرائیلی قانون کے مطابق، کسی بل کو قانون بننے کے لیے تین ریڈنگز سے گزرنا ضروری ہے۔
اسرائیل کی کنیسیت جسے آسان لفظوں میں پارلیمنٹ کہا جاتا ہے، ملک کے قوانین بنانے اور حکومتی فیصلوں کی نگرانی کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ یہاں 120 ارکان عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور یہ اسمبلی ملک کی سیاسی اور قانونی پالیسیوں کی بنیاد رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔