پشاور میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان کو قتل کرنے والے ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پشاور میں 20 ہزار روپے کے موبائل فون کیلیے نوجوان کو قتل کردیا جبکہ ملزمان چھاپے کیلیے جاتے وقت اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں پشتخرہ کے علاقے شہید آباد میں صرف 20 ہزار روپے کے موبائل فون کی خاطر ایک ماں کا جوان بیٹا بے دردی سے قتل کیے جانے کا واقعہ جہاں پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر گیا۔
وہیں کیپٹل سٹی پولیس پشاور کی بروقت، مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی کارروائیوں نے خونی راہزنی کے اس کیس کو انجام تک پہنچا دیا۔
پولیس کے مطابق 2 جنوری 2026 کو شہید آباد نزد فوجی اسٹینڈ نوجوان شاہ زیب کو گھر کے قریب ڈکیتوں نے یرغمال بنایا۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔
مقتول کے والد مرتضیٰ ولد عبد الحمید کی مدعیت میں تھانہ پشتخرہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔
مزید پڑھیںپشاور: ریگی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی اہلکار شہید
پشاور 9 مئی واقعات؛ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی
واقعے کا سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد اور ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے، جس پر ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کی نگرانی میں ڈی ایس پی پشتخرہ سرکل عمر آفریدی، ایس ایچ او تھانہ پشتخرہ افتخار احمد اور تفتیشی ٹیم پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے نتیجے میں پولیس نے واردات میں ملوث دونوں ملزمان سعید اللہ عرف ڈائناسور اور شاہ زیب عرف گوپھی کو گرفتار کر لیا، جنہوں نے دورانِ تفتیش خونی راہزنی سمیت متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔
گرفتار ملزمان کو آج شہید آباد کے علاقے میں موقع نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ قبرستان کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں پولیس پارٹی محفوظ رہی، تاہم پولیس کے زیر حراست دونوں ملزمان گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی پشتخرہ سرکل عمر آفریدی بھاری نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے، جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کر کے سخت چیکنگ جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ایس پی کینٹ عبد اللہ احسان نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان ہی وہی ڈکیت تھے جنہوں نے 2 جنوری کو خونی راہزنی کے دوران نوجوان شاہ زیب کو بے دردی سے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ