پنجاب میں شدید دھند کا راج برقرار، حدِ نگاہ انتہائی کم ،متعدد موٹر ویز بند
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب بھر میں کئی روز سے شدید دھند کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے اور موٹر ویز اتھارٹی نے حفاظتی اقدامات کے تحت متعدد موٹر ویز آج بھی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہیں۔
موٹر ویز سینٹرل ریجن کے مطابق دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو (M-2) پر لاہور سے کوٹ مومن تک گاڑیوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح موٹروے ایم تھری (M-3) فیض پور سے درخانہ جبکہ موٹروے ایم فور (M-4) پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق موٹروے ایم فائیو (M-5) ملتان سے روہڑی اور موٹروے ایم الیون (M-11) پر لاہور سے سمبڑیال تک بھی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب قومی شاہراہ پر بھی دھند کے باعث ٹریفک کی صورتحال متاثر ہے۔ لاہور، مانگا منڈی، پتوکی، اوکاڑہ، ساہیوال اور احمد پور شرقیہ میں دھند کے باعث حدِ نگاہ کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں میاں چنوں، خانیوال، ملتان، بستی ملوک، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی شدید دھند نے ٹریفک کی روانی متاثر کر رکھی ہے۔
ترجمان موٹر ویز نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں، کیونکہ دن کے وقت سفر نسبتاً محفوظ ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹروے ایم موٹر ویز کے باعث
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔