شرح پیدائش میں کمی سے سنگین بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، ہر خاندان میں 3 بچے ضروری ہیں، ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول: ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ترکیے کو مستقبل میں ایک سنگین آبادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
استنبول میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران فنکاروں اور نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترک معاشرے کو آبادی میں کمی کے رجحان کو پلٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط قوم کی بنیاد مضبوط خاندان ہوتے ہیں۔
صدر اردوان نے خود کو 9 بچوں کا نانا دادا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ جوڑوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ کم از کم 3 بچے ضرور ہونے چاہئیں، کیونکہ مضبوط خاندان کی تشکیل کے لیے یہ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات وہ مسلسل دہراتے آئے ہیں۔
انہوں نے ترک شماریاتی ادارے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں ترکیے کی شرح پیدائش کم ہو کر 1.
ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں اضافہ صرف ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ یہ مذہبی تعلیمات سے بھی ہم آہنگ ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قریبی حلقے کے بعض افراد بھی آبادی میں اضافے کے خلاف سوچ رکھتے ہیں، جو تشویش کا باعث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔