اقصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
پنجاب میں ایس ڈی جی پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور اسلام آباد میں آٹزم سینٹر اسلام آباد کے لیے خصوصی بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے 32 کروڑ روپے کی گرانٹ منظورکی گئی۔آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے قیام کے لیے 80 کروڑ اور ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور آئی ٹی منصوبوں کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے منظور کیےگئے۔ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے لیے 3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
سعودی کابینہ کا صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ
ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ پائپ لائن پر مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ فلم و ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 70 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، یہ رقم فلم اور ڈرامہ صنعت کے فروغ کے لیے فنڈز شفاف طریقے سے خرچ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: منصوبوں کے لیے کروڑ روپے کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔