Express News:
2026-06-02@22:03:57 GMT

سمندر کی گہرائیوں سے 600 سال پُرانا بحری جہاز دریافت

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اب تک کا سب سے بڑا قرونِ وسطیٰ کے دور کا ’سُپر شِپ‘ دریافت کر لیا۔ 15 ویں صدی سے تعلق رکھنے والی اس جہاز کی دریافت قرونِ وسطی میں شمالی یورپ میں ہونے والی تجارت پر روشنی ڈالتی ہے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کے ایک چینل میں پایا جانے والا سویلگیٹ 2 نامی یہ جہاز 28 میٹر لمبا، 9 میٹر چوڑا اور 6 میٹر اونچا ہے۔

محققین کے مطابق 1410 عیسوی کے قریب بنایا جانے والا یہ کارگو جہاز اندازاً 300 ٹن تک کا سامان لاد سکتا ہوگا، جو اس کو اس نوعیت کا سب سے بڑا جہاز بناتا ہے۔

مزید پڑھیں

برطانیہ: سڑک کی تعمیر کے دوران 300 سے زائد قدیم رومی قبریں دریافت

وائکنگ شِپ میوزیم میں بحری آثارِ قدیمہ کے ماہر (جن کی سربراہی کھدائی کی گئی) اوٹو الڈم کا کہنا تھا کہ یہ دریافت بحری آثارِ قدیمہ میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ ہمارے علم میں سب سے بڑا سامان بردار بحری جہاز ہے اور یہ قرونِ وسطی کی بحری جہازوں سے متعلق سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔

اس جہاز کو مؤثر طریقے سے بڑی مقدار میں روزمرہ کی اشیاء کی تجارت کے لیے بنایا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا