سمندر کی گہرائیوں سے 600 سال پُرانا بحری جہاز دریافت
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اب تک کا سب سے بڑا قرونِ وسطیٰ کے دور کا ’سُپر شِپ‘ دریافت کر لیا۔ 15 ویں صدی سے تعلق رکھنے والی اس جہاز کی دریافت قرونِ وسطی میں شمالی یورپ میں ہونے والی تجارت پر روشنی ڈالتی ہے۔
ڈنمارک کے دارالحکومت کے ایک چینل میں پایا جانے والا سویلگیٹ 2 نامی یہ جہاز 28 میٹر لمبا، 9 میٹر چوڑا اور 6 میٹر اونچا ہے۔
محققین کے مطابق 1410 عیسوی کے قریب بنایا جانے والا یہ کارگو جہاز اندازاً 300 ٹن تک کا سامان لاد سکتا ہوگا، جو اس کو اس نوعیت کا سب سے بڑا جہاز بناتا ہے۔
مزید پڑھیںبرطانیہ: سڑک کی تعمیر کے دوران 300 سے زائد قدیم رومی قبریں دریافت
وائکنگ شِپ میوزیم میں بحری آثارِ قدیمہ کے ماہر (جن کی سربراہی کھدائی کی گئی) اوٹو الڈم کا کہنا تھا کہ یہ دریافت بحری آثارِ قدیمہ میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ ہمارے علم میں سب سے بڑا سامان بردار بحری جہاز ہے اور یہ قرونِ وسطی کی بحری جہازوں سے متعلق سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔
اس جہاز کو مؤثر طریقے سے بڑی مقدار میں روزمرہ کی اشیاء کی تجارت کے لیے بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔