حکمران ڈمی ہیں،اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے ، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لیے قانون سے استثنا دیا جائے؟ رسولﷺ نے اپنے آپ کو مستثنا قرار نہیں دیا ، سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں۔
لاہور میں جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، 26ویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا کے مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، 27ویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں ۔
اتھارٹی کی ہے،سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے ، ہماری عوام اِس سے لاعلم ہے۔ہمارے ادارے بھی لوگوں کے عیوب تلاش کرتے اور ان کی فائلیں بناتے ہیں۔
فضل الرحمان نے کہا کہ اگر صدام حسین کویت میں داخل ہوتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن امریکا افغانستان ، عراق اور وینزویلا میں داخل ہوتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں؟ روس کس طرح افغانستان میں داخل ہوا تھا اور اب یوکرائن میں داخل ہوا ہے۔ امکان ہے کہ چین بھی اب تائیوان میں داخل ہوجائے گا جس کی روایت اگرچہ موجود نہیں۔
دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ، جس کے پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے،ایک برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں، اس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پر گزری ہے۔
برائے نام جمہوریت اور ڈھونگ انتخابات ہوئے جس کے نتائج کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر تیار ہورہے ہیں،نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے نہ پنجاب کی نہ سندھ کی نہ بلوچستان اور خیبر پختوانخوا کی، اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کررہی ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے اور قانون سازی اسلام آباد میں ہوگی،سیاسی جماعتوں کو اب تک احساس نہیں وہ پرانے نعرے لگا رہی ہیں۔
کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لیے بٹھائے گئے ہیں،کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنا دیا جائے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا اور حضرت عمر نے بھی اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔
ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا پیشیاں دیتا رہا اب اسے مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے،سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں اور ہمیں قانون سے استثنادیا جائے،آج کوئی شخص پاکستان کا وفادار ہو اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک کہ ان کا وفادار نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضل الرحمان ہوتا ہے
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔