پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
دبئی(آئی پی ایس )متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔
یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اورمراکش کے درمیان دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے پاکستان اورمراکش کے درمیان دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے ای سی سی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار مدد پہنچنے والی ہے،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام جس دن باورکرایا گیا کہ این آئی آرسی کی چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی تو اسی لمحے استعفی دیدیا، شوکت عزیز صدیقی امریکا نے 2026 میں اایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کردیے ،طلبہ اور مجرمانہ ریکارڈ والے افراد نشانے پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یو اے ای پہنچنے پر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔