پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی جس میں امیگریشن کے عمل کو مزید سہل بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس دوران پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا۔
سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 4لاکھ 81ہزار 862روپے ہو گئی
محسن نقوی کے مطابق پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچنے پر انہیں امیگریشن کی طویل کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا، اس نظام کے تحت مسافر ڈومیسٹک سفر کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام سفر کو مزید سہل بنانے، وقت کی بچت اور مسافروں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ کاری جاری رہے گی جبکہ منصوبے کی کامیابی کے بعد اس نظام کو بتدریج دیگر شہروں تک توسیع دی جائے گی۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر دبئی میں حفاظت اور آگ سے تحفظ کے لیے دنیا کی سب سے بڑی کاروباری نمائش, 1,400 سے زیادہ کمپنیوں کی شرکت
وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔