اسلام آباد:

مینیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) حسنات احمد قریشی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جن کا مقصد شفافیت، استعداد اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ہے۔

ایم ڈی پیپرا کے مطابق وزیرِ اعظم نے ریفارمز کی منظوری دی، جس کے بعد انسٹی ٹیوشنل ریفارمز کے تحت پروکیورمنٹ کے ماہرین کو شامل کیا گیا اور آزادانہ پروکیورمنٹ ایکسپرٹس تیار کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے یکساں بیڈنگ دستاویزات متعارف کرائی گئیں کیونکہ اس سے قبل مختلف ادارے مختلف دستاویزات استعمال کر رہے تھے، جس سے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔

حسنات احمد قریشی نے بتایا کہ پروکیورمنٹ کے عمل میں سب سے زیادہ مشکلات کیپیسٹی بلڈنگ میں پیش آتی ہیں، اسی لیے گزشتہ سال 2500 سے زائد افراد کو تربیت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ای پروکیورمنٹ کے فروغ کے لیے وفاق اور تینوں صوبوں میں ای پیڈز (e-PADS) کے لازمی اور مکمل نفاذ کو ممکن بنایا گیا ہے۔

ایم ڈی پیپرا کے مطابق اب تک ای پیڈز پر 9846 سرکاری اور 600 غیر ملکی کمپنیوں سمیت 43 ہزار سے زائد سپلائرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران ای پیڈز پر 1408.

58 ارب روپے مالیت کی 5 لاکھ 26 ہزار 271 ٹرانزیکشنز مکمل ہوئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ای پیڈز کو ایف بی آر، ایس ای سی پی، پاکستان انجینئرنگ کونسل، فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کر دیا گیا ہے، جبکہ آڈیٹر جنرل، نیب، انجینئرنگ کونسل اور مسابقتی کمیشن کے لیے خصوصی ڈیش بورڈز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ایم ڈی پیپرا کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے سرکاری خریداری کا نظام مزید شفاف، مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق ہو جائے گا۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پروکیورمنٹ کے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان