بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر کے اسپیشل اسسٹنٹ پروفیسر علی ریاض نے کہا ہے کہ ملک میں 2 ایوانوں پر مشتمل پارلیمنٹ (بائیکیمیرل پارلیمنٹ) کے قیام کی تجویز، جس میں ایک ایوان بالا بھی شامل ہوگا، ذاتی طاقت کے مرکزیت کو روکنے کے لیے ہے۔

پروفیسر ریاض نے پیر کو راجشاہی میڈیکل کالج آڈیٹوریم میں ریفرنڈم آگاہی سے متعلق ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کا حکومتی نظام بار بار ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار رہا ہے، جس سے ذاتی اختیارات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا، ‘ذاتی آمریت کا علاج شخصیات پر انحصار نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنے میں ہے۔’

یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور

انہوں نے جولائی کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تجویز کردہ ایوان بالا عوامی اور کثیر جماعتی نمائندگی کو یقینی بنائے گا اور آئینی ترامیم میں مختلف آرا کی عکاسی ممکن ہوگی۔ ‘ایوان بالا شمولیت کو بڑھائے گا اور چیکس اینڈ بیلنس کو مضبوط کرے گا۔’

اجلاس، جسے راجشاہی ڈویژنل ایڈمنسٹریشن نے منعقد کیا، کی صدارت ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر اے این ایم بزلو ر رشید نے کی۔ خصوصی مہمانوں میں چیف ایڈوائزر کے اسپیشل اسسٹنٹ (کانسنٹس) منیر حیدر، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم عبد الرزاق، راجشاہی رینج ڈی آئی جی محمد شاہجہان اور راجشاہی پولیس کمشنر ڈاکٹر محمد زلل الرحمان شامل تھے۔ اجلاس میں سینیئر سول اور پولیس افسران، صحافی اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ

پروفیسر ریاض نے کہا کہ بنگلادیش مساوات، انسانی وقار اور انصاف پر مبنی ریاست بننے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن 54 سال بعد بھی یہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔ انہوں نے ریاستی اداروں کی کمزوری اور ذاتی طاقت کے بڑھنے کی ذمہ داری پارٹی مفادات پر ڈالی۔ ‘2024 کے عوامی بغاوت، جس کی قیادت ہمارے نوجوانوں نے کی، نظام کو ری سیٹ کرنے کا موقع فراہم کیا،’ اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آمریت دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔

آئندہ ریفرنڈم کو ‘بنیادی ووٹ’ قرار دیتے ہوئے پروفیسر ریاض، جو حکومت کی مہم کی کوآرڈینیشن کر رہے ہیں، نے کہا کہ مؤثر اور دیرپا اصلاحات کے لیے عوامی منظوری ضروری ہے۔ ‘اگر ہم قانونی، ادارہ جاتی اور آئینی تبدیلی چاہتے ہیں تو عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنا ہوگا۔’

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

اس دوران اسپیشل اسسٹنٹ (کانسنٹس) منیر حیدر نے خبردار کیا کہ ریفرنڈم میں ناکامی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ ‘آمریت واپس آنا جانتی ہے۔ اگر ہم ہچکچائیں تو یہ تیزی سے واپس آ سکتی ہے’، انہوں نے عوامی منظوری کو مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔

انہوں نے افسران کو یقین دلایا کہ ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ کے ووٹ کی مہم پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، کیونکہ ریفرنڈم میں کوئی امیدوار نہیں ہوتا اور یہ قومی مشترکہ ایجنڈا ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر بزلو ر رشید نے اپنے خطاب میں ریفرنڈم کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے ڈویژن، ضلع اور اپزیلا سطح پر جاری اقدامات کا ذکر کیا اور افسران سے کہا کہ وہ اس اہم مرحلے پر اپنی ذمہ داریاں پوری لگن کے ساتھ انجام دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انتخابات ایوان بالا بنگلہ دیش سینیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتخابات ایوان بالا بنگلہ دیش سینیٹ ایوان بالا بنگلہ دیش انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی