data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ د ئیے جانے کے خلاف 15 جنوری کوہونے والے جماعت اسلامی کے ملک گیر عوامی ریفرنڈم کے سلسلہ میں شہربھر میں چوکوں اورچوراہوں پرپولنگ کیمپ لگائے جائیں گے۔ گھنٹہ گھرچوک میں مرکزی کیمپ لگایا جائے گا جس میں مرکزی اور صوبائی قائدین بھی شریک ہوں گے ۔ریفرنڈم کے پینل میں تمام سٹیک ہولڈرز ،عوامی نمائندے،تاجر،وکلا اور معاشرے کے تمام طبقات کے موثرنمائندے شامل ہوں گے، نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا، ریفرنڈم میں عوامی رائے کے ذریعے مینڈیٹ لینے کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کی طرف مارچ اور عوامی حقوق کیلئے دھرنے دیں گے۔ ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ نے ضلعی جنرل سیکرٹری یاسراقبال کھاراایڈووکیٹ کے ہمراہ شہرکے مختلف علاقوںمیںکارکنان کے اجتماعات میں بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ قوم موجودہ نظام سے مطمئن نہیں اور حقیقی مقامی جمہوریت چاہتی ہے۔بلدیاتی نظام کے خلاف منعقدہ ریفرنڈم عوامی شعور اور جمہوری حقِ رائے دہی کا مظہر ثابت ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ بلدیاتی نظام عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکا ہے اور اختیارات و وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے انہیں محدود طبقات تک مرکوز کر دیا گیا ہے۔یہ بلدیاتی ڈھانچہ آئینی تقاضوں اور عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، جس کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم اور مقامی نمائندے بے اختیار ہو چکے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ عوامی فیصلے کا احترام کرے، بلدیاتی قوانین میں بنیادی اصلاحات کرے اور اختیارات و وسائل واقعی طور پر مقامی سطح پر منتقل کرے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔اس عوام دشمن نظام کو ختم کرکے بااختیار، شفاف اور جوابدہ بلدیاتی نظام کے قیام عمل میںلایاجائے۔

وقائع نگار خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی