عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں شہربھر میں پولنگ کیمپ لگائے جائینگے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-11-8
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ د ئیے جانے کے خلاف 15 جنوری کوہونے والے جماعت اسلامی کے ملک گیر عوامی ریفرنڈم کے سلسلہ میں شہربھر میں چوکوں اورچوراہوں پرپولنگ کیمپ لگائے جائیں گے۔ گھنٹہ گھرچوک میں مرکزی کیمپ لگایا جائے گا جس میں مرکزی اور صوبائی قائدین بھی شریک ہوں گے ۔ریفرنڈم کے پینل میں تمام سٹیک ہولڈرز ،عوامی نمائندے،تاجر،وکلا اور معاشرے کے تمام طبقات کے موثرنمائندے شامل ہوں گے، نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا، ریفرنڈم میں عوامی رائے کے ذریعے مینڈیٹ لینے کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کی طرف مارچ اور عوامی حقوق کیلئے دھرنے دیں گے۔ ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ نے ضلعی جنرل سیکرٹری یاسراقبال کھاراایڈووکیٹ کے ہمراہ شہرکے مختلف علاقوںمیںکارکنان کے اجتماعات میں بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ قوم موجودہ نظام سے مطمئن نہیں اور حقیقی مقامی جمہوریت چاہتی ہے۔بلدیاتی نظام کے خلاف منعقدہ ریفرنڈم عوامی شعور اور جمہوری حقِ رائے دہی کا مظہر ثابت ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ بلدیاتی نظام عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکا ہے اور اختیارات و وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے انہیں محدود طبقات تک مرکوز کر دیا گیا ہے۔یہ بلدیاتی ڈھانچہ آئینی تقاضوں اور عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، جس کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم اور مقامی نمائندے بے اختیار ہو چکے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ عوامی فیصلے کا احترام کرے، بلدیاتی قوانین میں بنیادی اصلاحات کرے اور اختیارات و وسائل واقعی طور پر مقامی سطح پر منتقل کرے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔اس عوام دشمن نظام کو ختم کرکے بااختیار، شفاف اور جوابدہ بلدیاتی نظام کے قیام عمل میںلایاجائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔