پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی ‘ جمہوریت دشمن ہے‘ حافظ تنویر
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-17
اسلام آباد (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پنجا ب کی مجلس شوریٰ کا اجلاس گزشتہ روز نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب حافظ تنو یر احمد کی زیر صدارت منعقد ہو ا، اجلاس میں پنجاب میں بلد یاتی انتخابات کے کالے قانون کے خلاف 15جنوری کو ہو نے والے عوامی ریفر نڈم کی تیاریوں کا جا ئز ہ لیا گیا اور امرا اضلاع کو خصوصی ہدایات دی گئی، اس موقع پر گفتگو کر تے ہو ئے،حافظ تنو یر احمد نے کہاکہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے،15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے،حکمرانوں نے ظلم کے نظام کو جاری رکھا اور قوم کے حق رائے دہی کو بھی تسلیم کرنے سے انکاری رہے تو عوام کے غضب کا لاوا پھٹ جائے اور مسلط اشرافیہ کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا،انھوں نے کہاکہ پنجاب سمیت سارے ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تا کہ عوام حقیقی معنوں میں بااختیار ہو سکیں اور ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھ سکے۔جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل اقبال خان نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے پنجاب میں بلدیات کا کالا قانون منظور کر کے ووٹ اور ووٹر کی تو ہین کی ہے، مو جو دہ بلد یاتی نظام سے ملک میں خرید و فروخت اور انسانوں کی منڈی لگے گی، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر ہارس ٹریڈنگ نچلی سطح پر بھی پروان چڑھے گی، ملک میں نوجوانوں کو تعلیم، روزگار دستیاب نہیں، گلا سڑا عدالتی نظام ہے اور اس پر بھی حکمران طبقے نے ترامیم کے ذریعے مزید گرفت حاصل کرلی ہے، انھوں نے کہا کہ معیشت سود کی جکڑمیں ہے، بجلی، تیل، گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے اور اس صورتحال میں پنجاب میں بلدیات کا کالا قانون متعارف کرا دیا گیا،جماعت اسلامی اس باطلانہ نظام کے خلاف جدوجہد کو فرض سمجھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ملک میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی