جماعت اسلامی بلوچستان کا حکومتی پالیسیوں پر تنقید، عوامی حقوق کے تحفظ کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کا عزم مضبوط ہے، بلوچستان کے عوام کو جبر اور زور زبردستی کے ذریعے قابو نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے دل محبت سے جیتے جا سکتے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان کے عوام کے لیے تعلیم، روزگار، اور امن کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر بلوچستان کے عوام کو کچھ نہیں دیا گیا، حالانکہ اس صوبے سے سب کچھ لیا جا رہا ہے، بلوچستان میں اس وقت بدترین ڈکٹیٹرشپ قائم ہے اور اسلام آباد کے حکمران ظلم و جبر کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حکومتی سطح پر وسائل کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور وہاں کے عوام کو نہ تو آئینی حقوق مل رہے ہیں اور نہ ہی انہیں صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، بلوچستان کے معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے مگر اس صوبے کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے مسائل پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کی 46 فیصد نوجوان آبادی روزگار یا تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہے اور 65 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبے میں 21 فیصد آبادی بے روزگار ہے، اور 59 فیصد گھروں میں پانی کی سہولت تک دستیاب نہیں ہے، علاوہ ازیں 80 فیصد علاقوں میں پولیس رولز لاگو نہیں ہیں، اور 64 فیصد گھرانے کچی چھتوں پر گزارا کر رہے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کے لیے فوری طور پر آئینی حقوق، تعلیم، صحت کی سہولتیں، اور روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بلوچستان کو عزت ملنی چاہیے اور وہاں کے عوام کو پاکستان سے محبت کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو غلام نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ وہ سچے پاکستانی ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، بلوچستان میں سی پیک کے تحت ترقی کے بہت مواقع ہیں، خاص طور پر گوادر بندرگاہ کے حوالے سے جو نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر جماعت اسلامی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرے گی اور اس بات کا عہد کیا کہ بلوچستان کے عوام کی آواز کو بلند کیا جائے گا تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحمن نے کہ بلوچستان کے عوام کہا کہ بلوچستان جماعت اسلامی کے عوام کو کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔