صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کا اجرا، پیپلز پارٹی کا احتجاج ، اسمبلی سے واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی اسمبلی میں صدر مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔
قومی اسمبلی فلور پر پی پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ اس ایوان کی پرائمری ذمہ داری قانون سازی ہے، پہلی بار حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا، جس کی صدر مملکت نے منظوری نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا تو کبھی دور آمریت میں بھی نہیں ہوا، اس قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بنتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلالیا، اجلاس میں آئینی عمل کی پیروی نہ ہونے پر ارکان سے مشاورت کی جائےگی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ حکومت جب تک صدر توثیق نہ کریں کوئی آرڈیننس نوٹیفائی نہیں کرتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔