وزیراعظم کی نیووٹیک کیو اپرینٹس شپ قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیووٹیک کی حالیہ کارکردگی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے نئے اہداف کا تعین کرنے اور اپرینٹس شپ قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے نئے متعارف کردہ ایکوسسٹم سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں نیووٹیک کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں نیووٹیک کے ساتھ کام کرنے والے نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلڈیٹرز، صنعتی شعبے کے شراکت دار، پیشہ ورانہ فرمز، چیمبرز آف کامرس کے نمائندے، کاروباری ایسوسی ایشنز کے نمائندے اور مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیووٹیک کی جانب سے وزیرِ اعظم کے تفویض کردہ تربیتی پروگرامز کے اہداف کا حصول یقینی بنایا جا چکا۔ نیووٹیک اپنے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنا رہی ہے جس میں تربیتی پروگرامز میں طلبا و طالبات کی بائیومیٹرک حاضری کے ساتھ ساتھ ٹرینرز کے اعلی معیار کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیووٹیک کے تحت پاکستان کے پہلے اسکل بیسڈ بانڈ کا اجرا کیا جاچکا ہے جس کے تحت نجی شعبے سے پیشہ ورانہ تربیت کیلئے نتائج کی بنیادوں پر فنڈنگ لی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فِن ٹیک، کان کنی، سیاحت، اسپورٹس، ہاسپیٹیلٹی، چِپ بلڈنگ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ڈیمانڈ کے اعتبار سے تربیتی پروگرامز اس وقت نیووٹیک کے تحت ملک بھر میں جاری ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیووٹیک کے تکنیکی و فنی تربیت کے تمام پروگرام انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کیے جا چکے ہیں۔ اس مقصد کیلئے ملک بھر سے 148 صنعتوں کو پروگرامز میں شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں مدرسہ جات میں بھی تربیتی پروگرامز کا اجرا کیا گیا ہے۔اجلاس کو ان پروگرامز میں کامیابی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کے بارے بھی بتایا گیا۔اجلاس کو اعداد و شمار پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ برس نیوٹیک کے ذریعے 1 لاکھ 46 ہزار افراد نے تربیت حاصل کی جبکہ 15 ہزار سے زائد لوگوں کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز فراہم کی گئیں.

تکامل کے ذریعے 3 لاکھ سے زائد لوگوں نے تربیت حاصل کی جبکہ 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد لوگ سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعے برسر روزگار ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ 350 سے زائد اداروں کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں نیووٹیک کی جانب سے بین الاقوامی سطح کی تربیت فراہم کرنے کا لائسنس فراہم کیا گیا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 10 ہزار سے زائد لوگوں کو صنعتوں کے حساب سے پیشہ ورانہ تربیت کا پائلٹ پراجیکٹ کے اجرا کے علاوہ 2600 نئے اداروں کی رجسٹریشن کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تربیت فراہم کرنے والے اداروں کو ادائیگی کیلئے نتائج کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اجلاس کو گوگل، مائیکروسافٹ و دیگر بین الاقوامی سرٹیفیکیشن اداروں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے نیووٹیک کو تفویض کردہ تمام اہداف کو حاصل کیا جاچکا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت کو عالمی سطح پر مسابقت کیلئے بین الاقوامی سرٹیفیکشنز کی فراہمی خوش آئند امر ہے، خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کیلئے وزارت خارجہ اور وزرات سمندر پار مقیم پاکستانی اقدامات میں تیزی لائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان افردای قوت صلاحیتوں سے بھرپور ہے، انکی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے نیووٹیک کے ذریعے ایک مفصل پروگرام کا آغاذ کیا، اللہ کے فضل و کرم سے نیووٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ نیووٹیک کے تمام پارٹنر تربیتی اداروں میں زیر تربیت طلبا اور اساتذہ کیلئے بائیو میٹرک نظام کے تحت حاضری کا نظام لاگو کیا جائے، صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بناتے ہوئے نیوٹیک کے پروگرامز کو وسعت دی جائے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ افرادی قوت کو تربیت فراہم کی جا سکے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ذیادہ مانگ والے ہنر کے حوالے سے نوجوانوں کر بین الاقوامی سرٹیفیکشن کے ساتھ تربیت کی فراہمی اولین ترجیح ہے، نیووٹیک کے تحت جن اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں، انکی رکنیت معطل کرکے کاروائی کی جائے، نیووٹیک کے نظام کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن و آن لائن مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفارمیسی کونسل پاکستان دس سال سے مستقل سیکریٹری سے محروم لوگ ٹیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، سپر ٹیکس کیس میں وکیل کے دلائل محمود خان اچکزئی کا بیان ملک دشمن سیاست کا پردہ چاک کر چکا ، اکبر ایس بابر اسلام آباد لوکل گورنمنٹ نظام میں بڑی تبدیلیاں ، صدر نے آرڈیننس جاری کر دیا تین روزہ فیوچر منرل فورم 2026سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہوگا مری پولیس”مشن سیف ونٹر”کے تحت برفباری کے متوقع چیلنج کو محفوظ سیاحت میں بدلنے کے لئے مکمل تیار ٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملہ؛ ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ