Jasarat News:
2026-07-24@07:03:07 GMT

ہم تھے کوہِ گراں، مگر…

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کچھ جملے وقت کے ساتھ محض الفاظ نہیں رہتے، وہ تاریخ کی نبض پر رکھا ہوا ہاتھ بن جاتے ہیں‘‘۔ جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم ’’بھی ایسا ہی مصرع ہے جو بیک وقت خود احتسابی کا آئینہ بھی ہے اور اجتماعی حافظے کا بوجھ بھی۔ یہ دعویٰ نہیں، ایک سوال ہے؛ یہ فخر نہیں، ایک کرب آلود یادداشت ہے۔ اس مصرع میں حرکت کا حوالہ بھی ہے اور جمود کی شکایت بھی، طاقت کی کہانی بھی ہے اور اس طاقت کے زیاں کا نوحہ بھی۔ گویا ہم نے چلنے کا حوصلہ تو رکھا، مگر راستے کے انتخاب میں کہیں ٹھیر گئے؛ اور جہاں ٹھیر گئے، وہیں ہماری صلابت روایت بن گئی مگر سمت گم ہو گئی۔ قوموں کی زندگی میں ایسے ادوار بار بار آتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو کوہِ گراں سمجھنے لگتی ہیں بھاری، مضبوط، ناقابل ِ تسخیر مگر یہی وزن انہیں حرکت سے محروم کر دیتا ہے۔ طاقت اگر شعور کے بغیر ہو تو غرور بن جاتی ہے، اور غرور راستہ نہیں بناتا، دیوار کھڑی کرتا ہے۔ ہم نے بھی بہت سی دیواریں کھڑی کیں؛ نعروں کی دیواریں، بیانیوں کی دیواریں، مفادات کی دیواریں۔ ہر دیوار کے ساتھ ہم نے خود کو محفوظ سمجھا، مگر درحقیقت ہم نے اپنے لیے افق تنگ کر لیے۔ یوں ہم چلے بھی تو اپنے ہی بنائے ہوئے دائروں میں گھومتے رہے، آگے بڑھنے کی مسافت کم ہوتی گئی اور بوجھ بڑھتا گیا۔

یہاں مسئلہ صرف سیاست یا معیشت کا نہیں، یہ مزاج کا سوال ہے۔ جب قومیں سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں تو وہ خود کو درست سمجھنے لگتی ہیں، اور یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی سمجھا، تنقید کو غداری، اور اصلاح کو کمزوری۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قوتِ ارادی نے قوتِ فہم کی جگہ لے لی۔ ہم فیصلے کرتے رہے، مگر ان فیصلوں کے اثرات پر غور نہ کیا۔ ہم منصوبے بناتے رہے، مگر انسان کو ان منصوبوں کے مرکز میں نہ رکھا۔ اس اجتماعی بے توجہی نے ہمیں بظاہر مضبوط مگر باطناً کھوکھلا بنا دیا۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوہِ گراں وہی معنی رکھتا ہے جو حرکت کے ساتھ جڑا ہو۔ پہاڑ اگر راستہ روک دے تو رکاوٹ بن جاتا ہے، مگر اگر وہ بہاؤ کو سمت دے تو چشمہ بناتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے وزن کو کس کام میں لگایا؟ کیا ہم نے اپنی علمی روایت، فکری سرمایہ اور اخلاقی ورثے کو آگے بڑھنے کے لیے استعمال کیا یا محض اپنی برتری کے اعلان کے لیے؟ جب علم سوال سے کٹ جائے تو وہ حافظہ تو بن جاتا ہے، حکمت نہیں بنتا۔ جب روایت زندہ نہ رہے تو وہ تعویذ بن جاتی ہے، چراغ نہیں بنتی۔

ہماری اجتماعی لغت میں ’’استقامت‘‘ کا لفظ بہت بولا گیا، مگر اس کے ساتھ ’’تبدیلِ راستہ‘‘ کی جرأت کم دکھائی دی۔ حالانکہ استقامت کا مطلب جمود نہیں، بلکہ مقصد پر قائم رہتے ہوئے طریقہ بدلنے کا نام ہے۔ قومیں منزل سے وفادار رہتی ہیں، راستوں سے نہیں۔ ہم نے الٹ کیا؛ راستوں سے وفاداری نبھائی اور منزل دھندلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مباحث میں شور ہے، روشنی کم؛ اعداد ہیں، انسان کم؛ دعوے ہیں، اعتماد کم۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے چلنے کی قیمت ادا کی ہے۔ قربانیاں دی ہیں، محنت کی ہے، برداشت کیا ہے۔ مگر قربانی تب معنی خیز بنتی ہے جب وہ مستقبل کو قابلِ زیست بنائے۔ اگر قربانی صرف ماضی کی توجیہ بن جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ہمت پیدا کرنا ہوگی کہ ہم کن فیصلوں پر فخر کرتے ہیں اور کن پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔ خود احتسابی کمزوری نہیں، طاقت کی تطہیر ہے۔

’’جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم‘‘ کا ایک پہلو امید بھی ہے۔ اس میں ’’چلے‘‘ کا لفظ ہمیں بتاتا ہے کہ حرکت ممکن ہے، اور ’’تھے‘‘ کا صیغہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی جامد نہیں ہوتا، وہ سبق ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے وزن کو علم کی سمت موڑ دیں، اگر ہم طاقت کو خدمت کے ساتھ باندھ دیں، اگر ہم روایت کو سوال کے ساتھ زندہ رکھیں، تو یہی کوہِ گراں راستہ بن سکتا ہے۔ پھر ہمارے قدموں کی آہٹ دیواروں میں دراڑ ڈالے گی، اور ہمارے فیصلے انسانوں کی زندگی میں آسانی پیدا کریں گے۔

آج کی دنیا میں طاقت کی تعریف بدل چکی ہے۔ طاقت وہ نہیں جو بلند آواز ہو، طاقت وہ ہے جو سنی جائے؛ طاقت وہ نہیں جو حکم دے، طاقت وہ ہے جو قائل کرے؛ طاقت وہ نہیں جو روکے، طاقت وہ ہے جو بہاؤ بنائے۔ اگر ہم اس نئی تعریف کو قبول کر لیں تو ہمارے بوجھ ہلکے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہماری معیشت عددی کھیل نہیں رہے گی، انسانی امکان بنے گی؛ ہماری سیاست مقابلہ نہیں رہے گی، مکالمہ بنے گی؛ ہماری ثقافت یادگار نہیں رہے گی، زندہ تجربہ بنے گی۔

یہ کالم کسی فیصلے کا اعلان نہیں، ایک دعوتِ فکر ہے۔ دعوت اس بات کی کہ ہم اپنے وزن کو پہچانیں، مگر اسے مقصد کے تابع کریں کہ ہم اپنی تاریخ کو سلام کریں، مگر اسے مستقبل پر مسلط نہ کریں کہ ہم چلیں اس بار سمت کے ساتھ، شعور کے ساتھ، انسان کے ساتھ۔ اگر ہم یہ کر پائے تو شاید آنے والی نسلیں یہی مصرع یوں پڑھیں گی: جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم اور رکے نہیں، راستہ بن گئے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ طاقت وہ بھی ہے اگر ہم

پڑھیں:

’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔

سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘

        View this post on Instagram                      

اداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘

یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

        View this post on Instagram                      

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار