data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کچھ جملے وقت کے ساتھ محض الفاظ نہیں رہتے، وہ تاریخ کی نبض پر رکھا ہوا ہاتھ بن جاتے ہیں‘‘۔ جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم ’’بھی ایسا ہی مصرع ہے جو بیک وقت خود احتسابی کا آئینہ بھی ہے اور اجتماعی حافظے کا بوجھ بھی۔ یہ دعویٰ نہیں، ایک سوال ہے؛ یہ فخر نہیں، ایک کرب آلود یادداشت ہے۔ اس مصرع میں حرکت کا حوالہ بھی ہے اور جمود کی شکایت بھی، طاقت کی کہانی بھی ہے اور اس طاقت کے زیاں کا نوحہ بھی۔ گویا ہم نے چلنے کا حوصلہ تو رکھا، مگر راستے کے انتخاب میں کہیں ٹھیر گئے؛ اور جہاں ٹھیر گئے، وہیں ہماری صلابت روایت بن گئی مگر سمت گم ہو گئی۔ قوموں کی زندگی میں ایسے ادوار بار بار آتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو کوہِ گراں سمجھنے لگتی ہیں بھاری، مضبوط، ناقابل ِ تسخیر مگر یہی وزن انہیں حرکت سے محروم کر دیتا ہے۔ طاقت اگر شعور کے بغیر ہو تو غرور بن جاتی ہے، اور غرور راستہ نہیں بناتا، دیوار کھڑی کرتا ہے۔ ہم نے بھی بہت سی دیواریں کھڑی کیں؛ نعروں کی دیواریں، بیانیوں کی دیواریں، مفادات کی دیواریں۔ ہر دیوار کے ساتھ ہم نے خود کو محفوظ سمجھا، مگر درحقیقت ہم نے اپنے لیے افق تنگ کر لیے۔ یوں ہم چلے بھی تو اپنے ہی بنائے ہوئے دائروں میں گھومتے رہے، آگے بڑھنے کی مسافت کم ہوتی گئی اور بوجھ بڑھتا گیا۔
یہاں مسئلہ صرف سیاست یا معیشت کا نہیں، یہ مزاج کا سوال ہے۔ جب قومیں سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں تو وہ خود کو درست سمجھنے لگتی ہیں، اور یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی سمجھا، تنقید کو غداری، اور اصلاح کو کمزوری۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قوتِ ارادی نے قوتِ فہم کی جگہ لے لی۔ ہم فیصلے کرتے رہے، مگر ان فیصلوں کے اثرات پر غور نہ کیا۔ ہم منصوبے بناتے رہے، مگر انسان کو ان منصوبوں کے مرکز میں نہ رکھا۔ اس اجتماعی بے توجہی نے ہمیں بظاہر مضبوط مگر باطناً کھوکھلا بنا دیا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوہِ گراں وہی معنی رکھتا ہے جو حرکت کے ساتھ جڑا ہو۔ پہاڑ اگر راستہ روک دے تو رکاوٹ بن جاتا ہے، مگر اگر وہ بہاؤ کو سمت دے تو چشمہ بناتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے وزن کو کس کام میں لگایا؟ کیا ہم نے اپنی علمی روایت، فکری سرمایہ اور اخلاقی ورثے کو آگے بڑھنے کے لیے استعمال کیا یا محض اپنی برتری کے اعلان کے لیے؟ جب علم سوال سے کٹ جائے تو وہ حافظہ تو بن جاتا ہے، حکمت نہیں بنتا۔ جب روایت زندہ نہ رہے تو وہ تعویذ بن جاتی ہے، چراغ نہیں بنتی۔
ہماری اجتماعی لغت میں ’’استقامت‘‘ کا لفظ بہت بولا گیا، مگر اس کے ساتھ ’’تبدیلِ راستہ‘‘ کی جرأت کم دکھائی دی۔ حالانکہ استقامت کا مطلب جمود نہیں، بلکہ مقصد پر قائم رہتے ہوئے طریقہ بدلنے کا نام ہے۔ قومیں منزل سے وفادار رہتی ہیں، راستوں سے نہیں۔ ہم نے الٹ کیا؛ راستوں سے وفاداری نبھائی اور منزل دھندلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مباحث میں شور ہے، روشنی کم؛ اعداد ہیں، انسان کم؛ دعوے ہیں، اعتماد کم۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے چلنے کی قیمت ادا کی ہے۔ قربانیاں دی ہیں، محنت کی ہے، برداشت کیا ہے۔ مگر قربانی تب معنی خیز بنتی ہے جب وہ مستقبل کو قابلِ زیست بنائے۔ اگر قربانی صرف ماضی کی توجیہ بن جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ہمت پیدا کرنا ہوگی کہ ہم کن فیصلوں پر فخر کرتے ہیں اور کن پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔ خود احتسابی کمزوری نہیں، طاقت کی تطہیر ہے۔
’’جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم‘‘ کا ایک پہلو امید بھی ہے۔ اس میں ’’چلے‘‘ کا لفظ ہمیں بتاتا ہے کہ حرکت ممکن ہے، اور ’’تھے‘‘ کا صیغہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی جامد نہیں ہوتا، وہ سبق ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے وزن کو علم کی سمت موڑ دیں، اگر ہم طاقت کو خدمت کے ساتھ باندھ دیں، اگر ہم روایت کو سوال کے ساتھ زندہ رکھیں، تو یہی کوہِ گراں راستہ بن سکتا ہے۔ پھر ہمارے قدموں کی آہٹ دیواروں میں دراڑ ڈالے گی، اور ہمارے فیصلے انسانوں کی زندگی میں آسانی پیدا کریں گے۔
آج کی دنیا میں طاقت کی تعریف بدل چکی ہے۔ طاقت وہ نہیں جو بلند آواز ہو، طاقت وہ ہے جو سنی جائے؛ طاقت وہ نہیں جو حکم دے، طاقت وہ ہے جو قائل کرے؛ طاقت وہ نہیں جو روکے، طاقت وہ ہے جو بہاؤ بنائے۔ اگر ہم اس نئی تعریف کو قبول کر لیں تو ہمارے بوجھ ہلکے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہماری معیشت عددی کھیل نہیں رہے گی، انسانی امکان بنے گی؛ ہماری سیاست مقابلہ نہیں رہے گی، مکالمہ بنے گی؛ ہماری ثقافت یادگار نہیں رہے گی، زندہ تجربہ بنے گی۔
یہ کالم کسی فیصلے کا اعلان نہیں، ایک دعوتِ فکر ہے۔ دعوت اس بات کی کہ ہم اپنے وزن کو پہچانیں، مگر اسے مقصد کے تابع کریں کہ ہم اپنی تاریخ کو سلام کریں، مگر اسے مستقبل پر مسلط نہ کریں کہ ہم چلیں اس بار سمت کے ساتھ، شعور کے ساتھ، انسان کے ساتھ۔ اگر ہم یہ کر پائے تو شاید آنے والی نسلیں یہی مصرع یوں پڑھیں گی: جو چلے تو کوہِ گراں تھے ہم اور رکے نہیں، راستہ بن گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ طاقت وہ بھی ہے اگر ہم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز