بلوچستان کے عوام کا دل محبت سے جیتا جاسکتا ہے،زور زبردستی سے نہیں،مولانا ہدایت الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-01-19
امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا دل محبت سے تو جیتا جا سکتا ہے لیکن جبر اور زور زبردستی کے ذریعے ا نہیں فتح نہیں کیا جا سکتا،بلوچستان کے لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم،روزگار اور امن مانگتے ہیں،حکمران بلوچستان سے لیتے سب کچھ ہیں لیکن دیتے کچھ نہیں،
بلوچستان میں آج بدترین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے،اسلام آباد کے حکمران ظلم و جبر کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں ایسا ہر گز نہیں کرنے دیں گے، جمہوری جدو جہد ہمارا راستہ ہے، بلوچستان کے عوام کو جینے کا حق دیا جائے، گالی و گولی ہماری پر امن جدو جہد کو نہیں روک سکتی،بلوچستان کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں، جماعت اسلامی نے مینار پاکستان کے اجتماع عام میں بلوچستان کا مسئلہ اْٹھایا، سوائے جماعت اسلامی کے کسی اور جماعت کی قیادت بلوچستان نہیں گئی، حافظ نعیم الرحمن نے ایک سال میں بلوچستان کے 4 دورے کیے، بلوچستان کے مسائل پر جماعت اسلامی مشاورت سے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر احتجاج کرے گی،اسلام آباد کے اصل اور جعلی حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ خدارا بلوچستان کے عوام پر مظالم بند کریں، انہیں آئینی حقوق، تعلیم و صحت کی سہولتیں اور روزگار فراہم کیے جائیں، یہاں کے نوجوانوں پر رحم کریں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ صوبے میں ہوتا ہے،بلوچستان میں ایک ہی تالاب میں انسان اور جانور پانی پیتے ہیں، ہماری مائیں اور بہنیں کراچی میں سول اور جناح اسپتال کی فٹ پاتھ پر بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ بلوچستان میں صحت کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، بلوچستان کے لوگوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے،بانی پاکستان قائد اعظم اور ان کی بہن فاطمہ جناح کو بلوچستان نے عزت دی، بانی پاکستان کی وفات کے بعد بلوچستان میں آپریشن شروع کردیا گیا جو آج تک جارہی ہے۔ہدایت الرحمن نے کہاکہ جن کے پیارے لاپتا کرکے مار دیئے گئے وہ دہشت گرد نہیں ہیں،ماہ رنگ بھی دہشت گرد نہیں ہے،سی پیک سے حکومت نے ایک بھی موٹر وے نہیں بنائی، اگر مودی دہلی سے بیٹھ بلوچستان کے نوجوانوں کو پیسے دے رہا ہے تو اسلام آباد سے بیٹھ کر شہباز شریف پیسے کیوں نہیں دے سکتے،بلوچستان کو عزت چاہیے، وہاں کے عوام غلام نہیں سچے پاکستانی ہیں اس کی مثال یہ ہے جب ملک دو لخت ہوا تو کوئی بلوچستان کا شہری اس میں ملوث نہیں تھا اور جو ملوث تھے ان کو حکومتیں دی گئیں، بلوچستان کی بربادی کے ذمے دار وہاں کے سردار بھی ہیں اور سیاست دان بھی ہیں اور ساتھ میں وہ بھی ہیں جن کو ہم سالانہ 80 ارب روپے دیتے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 46 فیصد نوجوان یعنی 18 لاکھ یو تھ کسی قسم کے روز گار یا تعلیمی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں۔صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 65 فیصد بچے یعنی صوبے کے ہر 3 میں سے 2 بچے اسکول سے باہر ہیں جن کی تعداد 1 3لاکھ سے زاید ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں 64 فیصد بچیاں ہیں۔ظلم اور محرومیت کی انتہا ہے کہ بلوچستان میں 5 سال کی عمر سے اوپر کل آبادی میں سے 62 فیصد افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی قسم کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔صوبے کی 21 فیصد آبادی بے روز گار ہے۔41 فیصد مرد و خواتین بغیر کسی رسمی اجرت کے فیملی ہیلپرز کے طور پر کام کرتے ہیں،صوبے میں کل 15168 اسکولوں میں سے 22 فیصد یعنی 13336 اسکول غیر فعال ہیں جبکہ 1817 اسکول شیلٹر کے بغیر ہیں۔ 59 فیصد آبادی کے گھروں میں پانی کی سہولت موجود نہیں ہے یعنی وہ باہر سے پانی لاتے ہیں۔صوبے کا 80 فیصد ایریا ’’بی‘‘ کہلاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں پولیس رولز لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ 64 فیصد گھرانے کچے ہیں۔ 58 فیصد گھروں کی چھت لکڑی اور بانس کی ہیں اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کی نشانی سمجھے جانے والی RCC اور RBC(لینٹر چھت) پورے صوبے میں محض 7 فیصد ہیں۔سوئی گیس کی سہولت محض 18 فیصد آبادی کو میسر ہے، ایل پی جی گیس سلنڈر جس کو عام طور پر ایک معاشی استحکام سمجھا جاتا ہے ، اس کو استعمال کرنے والے گھرانوں کی تعداد محض 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحمن بلوچستان کے عوام بلوچستان میں جماعت اسلامی کہ بلوچستان فیصد ا بادی الرحمن نے سے زاید نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔