محمود خان اچکزئی کے بیان پر بلوچستان عوامی پارٹی کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے مرکزی ترجمان میر ضیاء اللہ لانگو نے محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے چار ماہ کے اندر بعض علاقوں کی پاکستان سے علیحدگی کا دعویٰ کیا تھا۔
کوئٹہ سے جاری بیان میں بی اے پی ترجمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی اور ماضی میں بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور ملک کے استحکام کی بات نہیں کی بلکہ ان کی سیاست توڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہے، عملی سیاست میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔
بی اے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے پی ٹی آئی کا کندھا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے مزید کہا کہ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے محمود خان اچکزئی کا پاکستانی ہونا بھی مشکوک ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔