پنجاب میں سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات کہاں ہوئے؟ اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور:
سال 2022 سے 2025 کے دوران ایل پی جی سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کی وجہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 25 افراد جاں بحق اور 242 افراد شدید زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں جسمانی معذوری کا شکار ہو کر رہ گئے۔
ایل پی جی سلنڈر کے سب سے زیادہ حادثات میں لاہور 170 واقعات کے ساتھ پہلے، فیصل آباد 50 حادثات کے ساتھ دوسرے اور 38 واقعات کے ساتھ راولپنڈی تیسرے اور گجرانوالہ 25 حادثات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا جبکہ حافظ آباد اور لودھراں پنجاب کے محفوظ ترین شہر رہے جہاں ایک بھی سلنڈر پھٹنے یا آگ لگنے کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔
ایکسپریس نیوز کو ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4 سال کے دوران پنجاب بھر میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے مجموعی طور پر 488 حادثات ہوئے جن میں مجموعی طور پر 25 افراد جاں بحق اور 286 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 44 افراد کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسجارج کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ملتان میں 18 حادثات ہوئے جس میں 8 افراد زخمی ہوئے، سرگودھا اور شیخوپورہ میں بالترتیب 19، 19 حادثے ہوئے جن میں 23 اور 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 8 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گجرانولہ میں 25 حادثات ہوئے جن میں 7 افراد زخمی ہوئے۔
اسلام آباد؛ شادی والے گھر میں سلنڈر دھماکا، دلہا دلہن سمیت 8افراد جاں بحق
لاہور کی دکان میں سلنڈر دھماکا، ایک شخص جاں بحق، دو زخمی
لاہور؛ گھر میں سلنڈر دھماکے سے عمارت کی پہلی منزل منہدم، 3افراد جاں بحق
بہاولنگر میں 16 حادثے ہوئے جن میں 10 زخمی ہوئے، بہاولپور میں 12 حادثات ہوئے جن میں تین زخمی ہوئے، گجرات میں 12 حادثات ہوئے جن میں 3 زخمی اور ایک جاں بحق ہوا، اٹک میں 8 حادثات ہوئے جن میں دو زخمی ہوئے۔ چکوال اور چنیوٹ میں 7، 7 واقعات ہوئے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔
اسی طرح، ڈیرہ غازی خان میں 10 واقعات ہوئے جن میں دو افراد زخمی ہوئے، مظفرگڑھ میں 6 واقعات ہوئے جن میں ایک زخمی ہوا، مری میں 4 واقعات ہوئے جن میں ایک زخمی ہوا، میاںوالی میں 5 حادثات ہوئے جن میں دو زخمی ہوئے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی میں دو، دو حادثات ہوئے اور مجموعی طور پر 6 افراد زخمی ہوئے۔
منڈی بہاءالدین میں 7 حادثات ہوئے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ جھنگ، جہلم اور قصور میں 4، 4 حادثات ہوئے جن میں دو افراد زخمی ہوئے۔ رحیم یار خان اور راجن پور میں 3، 3 واقعات ہوئے اور آگ پر فوری قابو پا لیا گیا۔
ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے مطابق زیادہ تر حادثات ناقص اور غیر معیاری سلنڈر کی وجہ سے پیش آئے۔ آگرا کی مدد سے لاہور، شیخوپورہ، گجرانولہ، سیالکوٹ، گجرات، ملتان میں ناقص اور غیر معیاری سلنڈر بنانے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی مگر اس کے باوجود غیر معیاری سلنڈر نہ صرف بن رہے ہیں بلکے کھلے عام فروخت بھی ہو رہے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل حادثات ہوئے جن میں افراد زخمی ہوئے ہوئے جن میں دو افراد جاں بحق سلنڈر پھٹنے واقعات ہوئے ایل پی جی ا گ لگنے کے ساتھ
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان