یمن: سعودی مسام پراجیکٹ کے تحت 1181 دھماکا خیز ڈیوائسز ناکارہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کے مسام پراجیکٹ کے تحت یمن کے مختلف علاقوں میں ایک ہفتے کے دوران مزید ایک ہزار 181 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ مطابق مسام کے منیجنگ ڈائریکٹر اسامہ القصبی نے بتایاہے کہ مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی کارروائیاں کی گئیں جن میں ایک ہزار 114 پھٹنے سے رہ جانے والے گولے ، 61 اینٹی ٹینک، 4 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں اور دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز شامل ہیں۔ اب تک 5 لاکھ 31 ہزار 868 بارودی سرنگوں کو تلف کیا جا چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔