درست پالیسیوں سے اس رجحان کو پلٹا جا سکتا ہے،مدثر مسعو د چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے سینئر وائس چیئرمین و سابقہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن دوسری جانب برآمدی شعبہ مسلسل کمزور ہورہا ہے ،ملک طویل عرصے تک اوور ویلیوڈ ایکسچینج ریٹ کا شکار رہا اور سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب غیرمعمولی حد تک کم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کھپت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ درست پالیسیوں سے اس رجحان کو پلٹا جا سکتا ہے۔ تجویز ہے کہ جب ترسیلات بڑھیں تو مرکزی بینک کو انہیں بلا روک ٹوک کھپت میں بہنے نہیں دینا چاہیے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے چاہئیں۔حکومت کو ایسی ایف ڈی آئی پالیسی بنانا ہوگی جو سرمائے کو ٹیکنالوجی، برآمدی اور پیداواری شعبوں میں لے کر جائے جبکہ رئیل اسٹیٹ جیسے کم پیداواری شعبوں میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مزدوری کی تلاش میں ملک چھوڑنے والے غریب محنت کشوں کی بھیجی ہوئی رقوم امیر طبقے کی بیرونی خریداری کی طاقت کو برقرار رکھنے میں استعمال ہو جاتی ہیں، اس روش کو ترک کرنا ہوگا، پر تعیش درآمدات پر جس قدر ممکن ہو سکے ڈیوٹی لگائی جائے کیونکہ یہ رویہ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔