موریشس کے ہائی کمشنر کا پاکستان کے ساتھ پی ٹی اے بحال کرنے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)ماریشس کے ہائی کمشنر منسوکریم بخش نے پاکستان اور ماریشس کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی بحالی کے لیے دونوں ملکوں پر مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت تقریباً 120 اشیاء کو ترجیحی مارکیٹ تک رسائی حاصل تھی مگر بعض وجوہات کی وجہ سے یہ معاہدہ غیر فعال ہے حالانکہ اس معاہدے کی بحالی دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر مزیدکہا کہ پاکستان اور ماریشس کے سفارتی تعلقات 1970 سے قائم ہیں اور پاکستان پہلا ملک ہے جس نے ماریشس کی آزادی کے بعد وہاں سفارتخانہ قائم کیا اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار اور باہمی تعاون پر مشتمل رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں کمی آئی ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں کراچی میں ماریشس کے اعزازی قونصل جنرل سہیل یاسین سلیمان، صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، چیئرمین فیئرز، ایگزیبیشینز اینڈ ٹریڈ ڈیلیگیشنز عمران معیز اور ایگز یکٹیو کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے۔ موریشس کے ہائی کمشنر نے نشاندہی کی کہ ماریشس اس وقت پاکستان سے کہیں زیادہ درآمدات کرتا ہے جبکہ اس کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں باسمتی چاول، سیمنٹ، ٹیکسٹائل، بیڈ شیٹس، تولیے و دیگر مصنوعات شامل ہیں جبکہ ماریشس کی پاکستان کو برآمدات بہت کم ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ ماریشس پہلے پاکستان کو انناس برآمد کرتا رہا ہے جو دنیا کے بہترین پھلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ماریشس کے لیچی عالمی مارکیٹوں بالخصوص پر فرانس میں سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں اور تھائی لینڈ، مڈغاسکر سمیت دیگر ممالک کے پھلوں سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ماریشس کے انناس اور دیگر پھلوں کی پاکستان کو برآمد کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ادویات کی برآمدات کو ماریشس تک توسیع دے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی ادویات کم قیمت پر تیار کرتا ہے جو یورپی مصنوعات کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہیں تاہم سرٹیفکیشن، ریگولیٹری منظوری اور تعمیل جیسے مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔انہوں نے سیاحت کے حوالے سے کہا کہ ماریشس کو ایک اعلیٰ سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے اگرچہ یہ ابھی پاکستانی سیاحوں میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔ انہوں نے حلال فوڈ کے شعبے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماریشس کی مسلم کمیونٹی حلال معیار کے حوالے سے انتہائی محتاط ہے اور فی الوقت زیادہ تر حلال گوشت آسٹریلیا اور بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے۔پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے اس شعبے میں بڑی گنجائش موجود ہے کیونکہ ماریشس کی مسلم کمیونٹی فروزن گوشت کی نسبت تازہ اور تازہ حلال گوشت کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کراچی کے برآمد کنندگان کو موریشس کو حلال غذائی مصنوعات کی برآمدات کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماریشس اب بلیو اکانومی اور گرین اکانومی کو ترجیح دے رہا ہے بالخصوص سمندر پر مبنی صنعتوں جیسے ایکوا کلچر اور سمندر سے حاصل ہونے والی ادویات سازی کی مصنوعات میں دلچسپی لے رہا ہے اگرچہ ماریشس ایک چھوٹا جزیرہ ہے لیکن اس کا خصوصی اقتصادی زون تقریباً20 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے جو اسے بے انتہا صلاحیتوں والا ایک سمندری ریاست بناتا ہے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ بلیو اکانومی سے متعلق تحقیق اور سرمایہ کاری میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔قبل ازیں صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف نے ماریشس کے ہائی کمشنر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ماریشس کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2018 میں بطور نائب صدرکے سی سی آئی انہوں نے ماریشس کا دورہ کیا تھا اور ایک تجارتی وفد کی قیادت کی تھی جس نے صدر ماریشس، وزراء اور ماریشس چیمبر آف کامرس سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستانی گوشت کی حلال سرٹیفکیشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی نے موریشس کے ماہرین کو پاکستان مدعو کرنے اور اپنے اخراجات پر ذبح خانوں اور گوشت کی پروسیسنگ سہولیات کا معائنہ کرانے کی پیشکش کی تھی اور انہوں نے اس مسئلے کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری ٹیکسٹائل، ادویات سازی، آئی سی ٹی، مالیاتی خدمات، سیاحت، سمندری خوراک اور مشترکہ منصوبوں جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں معیشتوں کے درمیان نمایاں امکانات موجود ہیں۔انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کی معیشتوں کے درمیان نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ہائی کمشنر کے سی سی ا ئی ہیں انہوں نے کی برا مدات اور ماریشس پاکستان کو کہ ماریشس ماریشس کی ماریشس کے کے درمیان کا اظہار ہوئے کہا کرنے کی کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز