data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر)ماریشس کے ہائی کمشنر منسوکریم بخش نے پاکستان اور ماریشس کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کی بحالی کے لیے دونوں ملکوں پر مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت تقریباً 120 اشیاء کو ترجیحی مارکیٹ تک رسائی حاصل تھی مگر بعض وجوہات کی وجہ سے یہ معاہدہ غیر فعال ہے حالانکہ اس معاہدے کی بحالی دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر مزیدکہا کہ پاکستان اور ماریشس کے سفارتی تعلقات 1970 سے قائم ہیں اور پاکستان پہلا ملک ہے جس نے ماریشس کی آزادی کے بعد وہاں سفارتخانہ قائم کیا اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار اور باہمی تعاون پر مشتمل رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں کمی آئی ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں کراچی میں ماریشس کے اعزازی قونصل جنرل سہیل یاسین سلیمان، صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، چیئرمین فیئرز، ایگزیبیشینز اینڈ ٹریڈ ڈیلیگیشنز عمران معیز اور ایگز یکٹیو کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے۔ موریشس کے ہائی کمشنر نے نشاندہی کی کہ ماریشس اس وقت پاکستان سے کہیں زیادہ درآمدات کرتا ہے جبکہ اس کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں باسمتی چاول، سیمنٹ، ٹیکسٹائل، بیڈ شیٹس، تولیے و دیگر مصنوعات شامل ہیں جبکہ ماریشس کی پاکستان کو برآمدات بہت کم ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ ماریشس پہلے پاکستان کو انناس برآمد کرتا رہا ہے جو دنیا کے بہترین پھلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ماریشس کے لیچی عالمی مارکیٹوں بالخصوص پر فرانس میں سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں اور تھائی لینڈ، مڈغاسکر سمیت دیگر ممالک کے پھلوں سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ماریشس کے انناس اور دیگر پھلوں کی پاکستان کو برآمد کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ادویات کی برآمدات کو ماریشس تک توسیع دے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی ادویات کم قیمت پر تیار کرتا ہے جو یورپی مصنوعات کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہیں تاہم سرٹیفکیشن، ریگولیٹری منظوری اور تعمیل جیسے مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔انہوں نے سیاحت کے حوالے سے کہا کہ ماریشس کو ایک اعلیٰ سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے اگرچہ یہ ابھی پاکستانی سیاحوں میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔ انہوں نے حلال فوڈ کے شعبے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماریشس کی مسلم کمیونٹی حلال معیار کے حوالے سے انتہائی محتاط ہے اور فی الوقت زیادہ تر حلال گوشت آسٹریلیا اور بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے۔پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے اس شعبے میں بڑی گنجائش موجود ہے کیونکہ ماریشس کی مسلم کمیونٹی فروزن گوشت کی نسبت تازہ اور تازہ حلال گوشت کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کراچی کے برآمد کنندگان کو موریشس کو حلال غذائی مصنوعات کی برآمدات کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماریشس اب بلیو اکانومی اور گرین اکانومی کو ترجیح دے رہا ہے بالخصوص سمندر پر مبنی صنعتوں جیسے ایکوا کلچر اور سمندر سے حاصل ہونے والی ادویات سازی کی مصنوعات میں دلچسپی لے رہا ہے اگرچہ ماریشس ایک چھوٹا جزیرہ ہے لیکن اس کا خصوصی اقتصادی زون تقریباً20 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے جو اسے بے انتہا صلاحیتوں والا ایک سمندری ریاست بناتا ہے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ بلیو اکانومی سے متعلق تحقیق اور سرمایہ کاری میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔قبل ازیں صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف نے ماریشس کے ہائی کمشنر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ماریشس کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2018 میں بطور نائب صدرکے سی سی آئی انہوں نے ماریشس کا دورہ کیا تھا اور ایک تجارتی وفد کی قیادت کی تھی جس نے صدر ماریشس، وزراء اور ماریشس چیمبر آف کامرس سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستانی گوشت کی حلال سرٹیفکیشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی نے موریشس کے ماہرین کو پاکستان مدعو کرنے اور اپنے اخراجات پر ذبح خانوں اور گوشت کی پروسیسنگ سہولیات کا معائنہ کرانے کی پیشکش کی تھی اور انہوں نے اس مسئلے کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری ٹیکسٹائل، ادویات سازی، آئی سی ٹی، مالیاتی خدمات، سیاحت، سمندری خوراک اور مشترکہ منصوبوں جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں معیشتوں کے درمیان نمایاں امکانات موجود ہیں۔انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کی معیشتوں کے درمیان نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ہائی کمشنر کے سی سی ا ئی ہیں انہوں نے کی برا مدات اور ماریشس پاکستان کو کہ ماریشس ماریشس کی ماریشس کے کے درمیان کا اظہار ہوئے کہا کرنے کی کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت