یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے: مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو عوام خود میدان میں نکل آتی ہے اور بالآخر انصاف عوام کی عدالت میں ملتا ہے۔ راولپنڈی کے علاقے ٹینچ بھاٹہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا ہے کہ ٹینچ بھاٹہ سے یاسین ملک کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور وہ یہاں رہائش پذیر بھی رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کو منظم طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے۔ بھارت مسلسل جارحیت پر اتر آیا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہے، تاہم پاک افواج ملک کا بھرپور دفاع کر رہی ہیں۔ یاسین ملک کبھی نریندر مودی کے آگے نہیں جھکے اور نہ ہی کشمیری عوام ظلم کے سامنے سر جھکائیں گے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست دی اور یہ معرکہ صرف ٹریلر ہے، پوری فلم مودی کو مقبوضہ کشمیر میں دیکھنی پڑے گی۔ مودی حریت رہنماؤں سے خوفزدہ ہے اور اسی خوف کے باعث کشمیری عوام پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ مشعال ملک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یاسین ملک اور کشمیری عوام کو بچانے کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے یاسین ملک
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔