کشمیر بھر میں مساجد اور مبلغین کی "پروفائلنگ" مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے، آغا سید روح اللہ مہدی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ مساجد کے خطیبوں کی تفصیلات جمع کرنا اور مذہبی مقامات کی نگرانی میں اضافہ کوئی الگ تھلگ انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں مساجد و خانقاہوں کے مبلغین کی تفاصیل جمع کرنے اور "پروفائلنگ" پر جموں سمیت کشمیر کے علماء نے بھی متحدہ طور مذمت کی ہے وہیں سرینگر سے نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کشمیر میں پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے مساجد اور مبلغین کی نگرانی، پروفائلنگ، آئین کی خلاف ورزی اور مذہبی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔ سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے سید روح اللہ نے دعویٰ کیا کہ مساجد کے خطیبوں کی تفصیلات جمع کرنا اور مذہبی مقامات کی نگرانی میں اضافہ کوئی الگ تھلگ انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمول کا لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک خاص (رائٹ وِنگ) نظریے کا منصوبہ ہے جو ان مذاہب کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے جو آر ایس ایس کے عالمی نظریے کے مطابق نہیں ہیں۔
آغا سید روح اللہ نے کہا کہ آئین ہر شہری کو بلا خوف و خطر، اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ کے مطابق نگرانی، دھمکیاں اور مذہبی عمل کو قابو میں کرنے کی کوششیں آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے "اضافی سطح کی نگرانی" کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست، خاص کر انٹیلی جنس ایجنسیز کے پاس پہلے ہی شہریوں کا وسیع ذاتی ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس پہلے ہی آدھار کارڈ ہے، تمام تفصیلات موجود ہیں، اگر آپ کسی خاص مذہب سے وابستہ افراد کو الگ کر کے ان پر مزید نگرانی مسلط کرتے ہیں تو یہ انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی نگرانی مذہبی امور میں براہ راست مداخلت کا سبب بن سکتی ہے۔ سید روح اللہ کے مطاق کل کو مسجد کے خطیبوں کو یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کون سا خطبہ دینا ہے اور کون سا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خود مذہب کے عمل کو کنٹرول میں لایا جا رہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پولیس، سی آئی ڈی، انٹیلی جنس یونٹس اور نیم فوجی دستوں سمیت سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے ہی نگرانی کے متعین نظام موجود ہیں، اور مذہبی اداروں کو الگ سے نشانہ بنانا ایک "خطرناک پیغام" ہے۔ بین الاقوامی امور کا مختصر حوالہ دیتے ہوئے سید روح اللہ نے ایران اور غزہ کے تناظر میں مغربی طاقتوں کی جانب سے جمہوریت اور انسانی حقوق پر دوہرے معیار پر تنقید کی اور کہا کہ خودمختار ممالک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت غیر منصفانہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید روح اللہ کی نگرانی اور مذہبی نے کہا کہ انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
سٹی 42: میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش ہورہی ہے ۔
میرپور آزاد کشمیر و گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہورہی ہے ۔ بارش کے باعث شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا، موسم خوشگوار ہو گیا۔درجہ حرارت میں نمایاں کمی، شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا
منگلا، چیچیاں، جاتلاں، اسلام گڑھ، چکسواری اور ڈڈیال میں بھی بارش ہے ۔ تیز ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری ہے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
مری میں کالی گھٹائیں برس پڑیں، بارش سے موسم مزید خوشگوار ہو گیا۔بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے مری کے حسن کو چار چاند لگا دیئے۔
گرم علاقوں سے آئے سیاح خوشگوار موسم سے بھرپور لطف اندوز ہونے لگے۔ بارش کے بعد سیاحتی مقامات پر رونقیں بڑھ گئیں۔
کھاریاں میں گرج چمک اور تیز ہوا کیساتھ بارش ہے ۔ بجلی بند موسم خوشگوار ہو گیا۔
بارش سے گرمی کی شدت کم ہو گئی۔