پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا
پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس

سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی گئی، پولیس پر پتھراو کیا گیا، مرد و خواتین صحافیوں کو پی ٹی آئی کی پرانی روایت کے تحت تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے۔ 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے۔شرجیل میمن نے کراچی میں کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سندھ آئے تھے، جنہیں صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سیکیورٹی تھریٹ موصول ہوا تھا جس سے خیبرپختونخوا حکومت کو بروقت آگاہ کیا گیا،سہیل آفریدی کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ انہیں مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے سہیل آفریدی کا استقبال کیا اور سندھ کی روایت کے مطابق انہیں اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ بھی دیا گیا، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے 83 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا ہے اور اس پر کام جاری ہے۔ تاہم سینئر وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سندھ حکومت سے کی گئی کمٹمنٹس کی خلاف ورزی کی، انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بعض حساس علاقوں میں جانے سے روکا گیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ وہاں گئے، جس کے نتیجے میں حالات کشیدہ ہوئے۔ شرجیل میمن کے مطابق تھریٹ کی وجہ سے ایک مخصوص راستہ کھولا گیا تھا، مگر پی ٹی آئی نے طے شدہ روٹ کی خلاف ورزی کی۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم پارٹی نے احترام کی لاج نہیں رکھی، انہوں نے کہا کہ یہ سندھ حکومت تھی جس نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے باوجود کراچی میں 9 مئی جیسے واقعے کو دہرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جلسے کے دوران ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، میڈیا کی گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور خواتین صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ کراچی نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے جلسے کے لیے طے شدہ روٹ فالو نہیں کیا اور حیدرآباد جا کر نام لے کر تنقید شروع کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ذہن میں شرارت تھی اور وہ کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا قومی دھارے میں رہ کر سیاست کرنے کا کوئی موڈ نظر نہیں آتا، جبکہ سندھ حکومت صوبے میں امن، ترقی اور برداشت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ مزید پڑھیں:سونا اتنا مہنگا کہ سوچ کر بھی دل گھبرا جائے!فی تولہ قیمت نے ہوش اڑا دیٔے دوسری جانب پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سندھ کارڈیو ویسکیولر انسٹیٹیوٹ کے لیے 100 ملین روپے کی منظوری دی ہے، جبکہ حیدرآباد میں چرچ کی بحالی کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہ پی ٹی ا ئی شرجیل میمن سندھ حکومت کراچی میں نے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ گیا تھا

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد