Nawaiwaqt:
2026-07-23@23:37:22 GMT

شعبہ طب میں ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، بلاول بھٹو

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

شعبہ طب میں ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شعبہ طب میں ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیلی میڈیسن سے علاج ممکن ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جس کا حل نوجوانوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم میں پوشیدہ ہے۔۔

وہ منگل کو جناح سندھ میڈیکل کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے جس کا انعقاد مقامہ ہوٹل میں کیا گیا۔ 

جلسہ تقسیم اسناد سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور شیخ الجامعہ ڈاکٹر امجد سراج میمن نے بھی خطاب کیا، جب کہ وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راہو، چیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع، سکریٹری سندھ ایچ ای سی نعمان احسن، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر نگہت شاہ اور رجسٹرار اعظم خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

جلسہ تقسیم اسناد میں طب اور صحت سے وابستہ مختلف شعبہ جات کے 570 سے زائد طلبہ و طالبات کو اسناد تفویض کی گئیں، جبکہ نمایاں تعلیمی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اسناد کے ساتھ مجموعی طور پر 30 تمغے دیے گئے، جن میں 11 طلائی، 10 نقرئی اور 9 کانسی کے تمغے شامل تھے۔ 

اس موقع پر 9 طلبہ و طالبات کو بیسٹ گریجویٹ کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آغاز میں غزہ کے شہداء کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ 

تقریب سے خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا دن صرف تقسیم اسناد کا نہیں بلکہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔ 

انھوں نے کہا فارغ التحصیل طلبہ نے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، ذہنی صحت اور دیگر اہم شعبوں کے بارے میں بھی تعلیم حاصل کی ہے جو موجودہ دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ایک طاقتور نام کی حامل درسگاہ ہے جس کا تعلق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے جڑا ہوا ہے اور اس نام کے ساتھ نظم و ضبط اور ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کا تعلق صرف علاج سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے، یہ غربت کے باعث بیمار ہونے والے بچوں، محروم طبقات اور کمزور افراد کی خدمت کا نام ہے، وہ معاشرے جو صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی عزت نہیں کرتے، انہیں مہذب معاشرے نہیں کہا جا سکتا۔ 

انہوں نے کہا کہ سندھ ہمیشہ برداشت، رواداری اور مزاحمت کی سرزمین رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جس کا حل نوجوانوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم میں پوشیدہ ہے۔ کچھ گریجویٹس تحقیق کے شعبے میں جائیں گے، کچھ اسپتالوں میں علاج اور سرجری کے فرائض انجام دیں گے اور کچھ بیرونِ ملک خدمات سرانجام دیں گے۔

تاہم وہ جہاں بھی ہوں، انہیں انسانیت کی خدمت کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کے بغیر ٹیکنالوجی بے معنی ہے اور مستقبل کا صحت کا نظام مریض مرکوز ہونا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ والدین کا بھی ہے جنہوں نے ان طلبہ کی تربیت کی، ان کے کردار کی تشکیل کی اور اپنی محنت و قربانی سے قوم کا مستقبل سنوارا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ جے ایس ایم یو کے جلسہ تقسیم اسناد میں موجود ہیں، جہاں ڈاکٹرز، محقق اور رہنمائے صحت ایک چھت تلے جمع ہیں۔ نوجوان گریجویٹس نے خدمت صحت کی نئی دنیا میں قدم رکھا ہے اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو ترقی کرتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ 

انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جبکہ صدر آصف علی زرداری کی کاوشوں سے اسے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور ایمرجنسی ٹاور اسی دورِ حکومت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں مہنگے سے مہنگا علاج عوام کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے اور صوبے کے اسپتالوں میں بیرونِ ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پورے سندھ میں ایس آئی سی وی ڈی اور این آئی سی وی ڈی کا جال بچھایا گیا ہے، جہاں ماضی کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے اداروں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ یہ ادارہ ملک کو باصلاحیت اور باکردار طبی ماہرین فراہم کر رہا ہے جو عوامی خدمت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ طلبہ کا سفر یہاں ختم نہیں بلکہ اب عملی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے، انہوں نے مزید کہا حکومت سندھ کے تعاون سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے جامعہ کو فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔

کانووکیشن کے اختتام پر فارغ التحصیل طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا گیا، جس میں انہوں نے اخلاقی طبی عمل، دیانت داری اور انسانیت کی خدمت کے عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سندھ میڈیکل بلاول بھٹو نہیں بلکہ رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو