پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسے واقعات دہرانے کی کوشش کی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ کےصوبائی وزیر برائے اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے حالیہ دورۂ کراچی کے دوران ایک بار پھر 9 مئی جیسے واقعات دہرانے کی کوشش کی، سندھ حکومت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا،8 فروری کو صوبے میں پہیہ جام نہیں ہونے دیا جائے گا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ چند روز قبل خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کراچی آئے، جس کی اطلاع ملتے ہی سندھ حکومت نے ان سے رابطہ کیا اور سکیورٹی سمیت تمام سہولیات کی یقین دہانی کروائی، اس سے قبل تھریٹ الرٹ موصول ہوا تھا، تاہم اس کی تشہیر اس لیے نہیں کی گئی کہ کوئی اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کیے، پہلے دن بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور واضح کیا گیا کہ کن علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث جانا مناسب نہیں مگر حکومتی ہدایات کے باوجود پی ٹی آئی قیادت ضلع سینٹرل گئی، جس سے ٹریفک اور امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے۔
جلسے کی اجازت کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو زبانی طور پر اجازت دی جا چکی تھی مگر تحریری اجازت ملنے کے چند منٹ بعد ہی پی ٹی آئی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ باغِ جناح کے بجائے سڑک پر جلسہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ باغ جناح میں جلسے کے لیے باقاعدہ ٹریفک اور سکیورٹی پلان بنایا جاتا ہے اور سندھ حکومت نے ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، میڈیا کی گاڑیاں توڑی گئیں اور خواتین صحافیوں سے بدتمیزی کی گئی، اس کے باوجود سندھ حکومت نے کوئی پرچہ درج نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست انتشار پر مبنی ہے جبکہ سندھ حکومت جمہوری اور برداشت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، مگر ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شیڈول پہلے سے طے تھا، اس کے باوجود پیغام دیا گیا کہ اگر وہ ملاقات کے لیے نہیں آ سکتے تو ہم خود آنے کو تیار ہیں۔ جن راستوں اور علاقوں میں جانے سے منع کیا گیا، جان بوجھ کر وہی روٹس اختیار کیے گئے اور بعد میں شور مچایا گیا۔
شرجیل میمن نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں طالبان رہنماؤں کو بغیر عدالتی کارروائی کے رہا کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، سزا یافتہ افراد کو قانون اور عدالت کو بائی پاس کر کے رہا کرنا کس ایجنڈے کے تحت کیا گیا۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور 8 فروری کو صوبے میں کسی بھی قسم کا پہیہ جام نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت نے کہ پی ٹی آئی شرجیل میمن نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔