جنگ آزمودہ جے ایف 17 تھنڈر: پاکستان کی دفاعی برآمدات میں بڑی پیشرفت، کون سے ممالک خریدار اور کون منتظر؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی میں پاک فضائیہ نے جس طرح سے فیصلہ کن انداز میں بھارتی رافیل طیارے گرائے، بھارتی فضائی دفاعی نظام ایس 400 کو تباہ کیا، بھارتی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اس چیز نے پاکستان کو عالمی طور پر نہ صرف ایک مضبوط فوجی طاقت کے حامل ملک کے طور پر پیش کیا ہے بلکہ پاکستان کے دفاعی نظام خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کے لیے دنیا بھر میں دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ جس کا ایک عملی مظاہرہ ہم نے گزشتہ برس نومبر میں دبئی ایئر شو کے دوران دیکھا۔
پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ جدید لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر عالمی دفاعی منڈی میں پاکستان کی سب سے کامیاب دفاعی برآمدات میں شمار ہونے لگا ہے۔ کم لاگت، جیسے اپ گریڈڈ ماڈل کی دستیابی نے متعدد ممالک کو اس بلاک تھری جدید طیارے کی جانب متوجہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر دفاع کا دورہ مراکش: دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
حالیہ برسوں میں کچھ ممالک کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ کئی ریاستیں اب بھی مذاکرات یا دلچسپی کے مرحلے میں ہیں۔
بین الاقوامی دفاعی اشاعتوں نے پاکستان کی دفاعی کمپنی پی اے سی اور جے ایف 17 پروگرام کے بارے میں لکھا ہے کہ پاکستان نے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں اپنی دفاعی برآمدات کو بڑھایا ہے، خاص طور پر ذاتی خدمات، تربیت اور تکنیکی مدد کے ساتھ، ان رپورٹس کے مطابق کئی افریقی اور ایشیائی ریاستیں جے ایف 17 کے لچکدار انضمام اور کم قیمت پیکج کی وجہ سے اس میں سنجیدہ دلچسپی رکھتی ہیں۔
پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارے میں کیا خصوصیات ہیں اور دنیا اِس کی طرف کیوں متوجہ ہے؟پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارہ بلاک تھری، ایک 4.
یہ طیارہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس تو نہیں لیکن اس پر ایک ایسی پرت یا کوٹنگ ضرور ہے جو اِسے ریڈار پر دکھائی دینے میں مُشکل بنا سکتی ہے۔ پاکستان کا جے ایف 17 بلاک تھری فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح سے مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ایڈوانسڈ ایوی اونکس کے ساتھ الیکٹرانک وار فیئر اور بیانڈ وژوئل رینج میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طیارے میں نصب ریڈار اِس کو ایک وقت میں کئی اہداف کا پتا چلانے کی صلاحیت دیتا ہے۔
’وہ ممالک جو جے ایف 17 خرید چکے ہیں یا معاہدے طے پا گئے ہیں‘
آذربائیجانآذربائیجان وہ ملک ہے جس نے پہلے 2024 میں پاکستان کے ساتھ 16 جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری کا معاہدہ کیا لیکن جون 2025 میں اُس کو بڑھا کر 40 جے ایف 17 بلاک تھری طیاروں کی خریداری کا معاہدہ بنا دیا۔
آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی دفاعی ڈیل کا مجموعی حجم 4.6 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی ڈیل شُمار کی جار ہی ہے ۔
نائجیریانائجیریا نے ابتدائی طور پر 3 جے ایف 17 طیارے خریدے، جو اس کی فضائیہ میں فعال طور پر شامل ہیں۔ مستقبل میں مزید طیاروں کی خریداری کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔
میانمارمیانمار پاکستانی ساختہ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے خریدنے والا پہلا مُلک تھا جس نے 2015 میں 16 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا جن میں سے 7 ڈیلیور کیے جا چُکے ہیں اور اس کے بعد نائجیریا دوسرا مُلک تھا جس نے یہ طیارے خریدے۔
وہ ممالک جو خریداری میں دلچسپی یا مذاکرات کے مرحلے میں ہیں
بنگلہ دیش9 جنوری کو پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیش کے ایئر چیف حسن محمود خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے تناظر میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔
بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کے پرانے فلیٹ کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ پاکستان سے نہ صرف جے ایف 17 بلکہ سُپر مشاق طیاروں کی خریداری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
انڈونیشیاگزشتہ روز انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ انڈونیشیا پاکستان سے 40 جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور شہپر ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کررہا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی فوج انڈونیشیا کے افسران کے لیے تربیتی پروگرام، فضائی دفاعی نظام اور انجینیئرنگ اسٹاف کی تربیت کے مواقع بھی فراہم کرنے پر غور کررہی ہے۔
انڈونیشیا اپنے پرانے طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے متعدد بین الاقوامی معاہدے کررہا ہے۔
عراق10جنوری کو ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کے دورہ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ موہناد غالب محمد رادی الاسدی نے پاکستان فضائیہ کی مئی کے تنازعے کے دوران پیشہ ورانہ کارکردگی کی تعریف کی اور جنگ آزمودہ جے ایف 17 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
آئی ایس پی آر سے جاری کردہ بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل الاسدی نے پی اے ایف کے جے تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور پی اے ایف کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
ایرانایرانی حکام کی جانب سے بھی جے ایف 17 میں دلچسپی کے اشارے ملے ہیں، مگر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کسی ممکنہ تعداد یا معاہدے پر کھل کر بات نہیں کی جا رہی۔
لیبیالیبیا کے مشرقی حصے کے طاقتور کمانڈر خلیفہ حفتر سے منسلک انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ قریباً 4 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں جے ایف 17 طیارے، تربیت اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہو سکتا ہے۔
جے ایف 17 ایک برآمدی اثاثہجے ایف 17 تھنڈر پاکستان کے لیے نہ صرف ایک جنگی طیارہ بلکہ اسٹریٹجک برآمدی اثاثہ بن چکا ہے۔ بلاک تھری میں جدید اے ای ایس اے ریڈار، بہتر ایویونکس اور جدید ہتھیاروں کی شمولیت نے اس طیارے کو اُن ممالک کے لیے پرکشش بنا دیا ہے جو مہنگے مغربی لڑاکا طیارے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
مزید پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات، مشترکہ تربیت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اگر موجودہ مذاکرات میں سے چند بھی حتمی معاہدوں میں بدل جاتے ہیں تو جے ایف 17 پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان جے ایف 17 تھنڈر دفاعی معاہدے مئی جنگ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان جے ایف 17 تھنڈر دفاعی معاہدے وی نیوز طیاروں کی خریداری پاکستان کی دفاعی جے ایف 17 تھنڈر دلچسپی ظاہر نے پاکستان پاکستان کے میں دلچسپی بنگلہ دیش بلاک تھری ایئر چیف ظاہر کی کے ساتھ کی جانب کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :