بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کا مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز بیان‘ سیاسی رہنماؤں کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے حالیہ بیان نے خطے میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں تاریخ کا بدلہ لینے کی آگ ہونی چاہیے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو معمول بنانا ضروری ہے۔ یہ بیان ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026ء کے دوران سامنے آیا۔ ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ معروف سماجی کارکن محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اْکسانے کے مترادف ہے اور صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض دھوکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈوول کا بیان بھارت میں نفرت اور مذہبی بنیاد پر فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈوول ڈاکٹرائن خطے میں پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی ایشیا میں تنازع کو ہوا دینے کا ذریعہ ہے۔ ماضی کے تاریخی شواہد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت میں بعض مندروں، خاص طور پر سومنات مندر کو کئی ہندو حکمرانوں نے نقصان پہنچایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔