وزیراعلیٰ پختونخوا کیلیے تھریٹ الرٹ ملا تھا، ظاہر نہیں کیا، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پختونخوا کی آمد سے قبل تھریٹ الرٹ موصول ہوا تھا، عوامی سطح پر ظاہر نہیںکیا، انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی تھی، استقبال بھی خلوص دل سے کیا تھا، جناح گراؤنڈ میں جلسے کی زبانی اجازت بھی دی تھی تاہم بعد میں خود پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ وہ گراؤنڈ کے اندر کے بجائے باہر جلسہ کریں گے، جس کی اجازت ممکن نہیں تھی۔ انہوںنے پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے حالیہ دورہ سندھ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی ان کی آمد کی اطلاع ملی، سندھ حکومت نے ان سے رابطہ کیا اور مکمل سیکورٹی اور سہولیات کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ایک تھریٹ الرٹ موصول ہوا تھا، تاہم اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا تاکہ کوئی شرپسند اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکے، البتہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ سندھ حکومت نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر بلٹ پروف گاڑی، اضافی پولیس سیکورٹی یا کسی اور انتظام کی ضرورت ہو تو حکومت سندھ وہ فراہم کرے گی مگر وزیر اعلیٰ پختونخوا نے بلٹ پروف گاڑی لینے سے انکار کیا تاہم سیکورٹی لینے پر رضامندی ظاہر کی جو ان کا حق تھا، اور انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر، سینئر رہنما اور کراچی ڈویژن کے صدر سید غنی خود استقبال کیلیے ائرپورٹ گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ کا اس انداز میں استقبال کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مستقبل میں کسی اتحاد کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت کا رویہ بھی پی ٹی آئی جیسا ہوتا تو نہ استقبال کیا جاتا اور نہ ہی سہولیات فراہم کی جاتیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جناح گراؤنڈ اور مزار قائد کے اطراف کا علاقہ ایک ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے جو وفاق کے تحت کام کرتا ہے، اس لیے تحریری اجازت میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود زبانی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد میں خود پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ وہ گراؤنڈ کے اندر کے بجائے باہر جلسہ کریں گے، جس کی اجازت ممکن نہیں تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ انہوں نے گراو نڈ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔