چشمہ اور کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی بہتر قرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا، نیپرا کی 149 بجلی گھروں کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2024/25 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن پہلے نمبروں پر آگئی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام چشمہ اور کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹس کی کارکردگی بہترین قرار پائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں پاور پلانٹس نے کارکردگی میں مسلسل بہتری برقرار رکھی جو مضبوط انتظامی ڈھانچے اور مؤثر حکمت عملی کا مظہر ہے۔ جوہری بجلی گھروں کی اعلیٰ کارکردگی توانائی کے نظام کے استحکام، عوامی اعتماد اور ملازمین کی حفاظت کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق جوہری بجلی گھر محفوظ، ماحول دوست اور جدید توانائی کے نظام کی کامیاب مثال قائم کر رہے ہیں۔ مضبوط حفاظتی نظام، پیشہ ورانہ انتظامی حکمتِ عملی اور مسلسل بہتری سے اعلیٰ کارکردگی حاصل کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں بجلی گھروں کی صحت، حفاظت اور ماحولیات سے متعلق کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔