Jasarat News:
2026-06-02@23:10:32 GMT

امریکا کی ایران کو دھمکی!

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-03-2
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشن پر غور کر رہے ہیں، ہماری فوج بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں، دنیا انتظار کر سکتی ہے اور اندازہ لگا سکتی ہے، اس حوالے سے سینئر امریکی حکام منگل کے دن صدر ٹرمپ کو ممکنہ حکمت عملی پر بریفنگ دینے والے ہیں۔ اتوار کو ائر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس چند بہت مضبوط راستے موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران سے نکل جائیں۔ ادھرایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے ظالم حکمران عروج اور غرور کے نشے میں ہی اپنے زوال کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ شدید غرور میں مبتلا ہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اور تکبر کے زعم میں مبتلا حکمران زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔ صدر ٹرمپ کا انجام بھی فرعون اور نمرود جیسے ظالم حکمرانوں جیسا ہوگا، جنہیں تاریخ میں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ایران کے موجودہ حالات کے تناظر میں خوش آئند امر یہ ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، عوام نے اپنی وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ بلاشبہ یہ ملک گیر مظاہرے دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد ویکجہتی اور یگانگت کا مظہر ثابت ہوئے۔ ریلی میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ کرائے کے عناصر اور دہشت گردوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ایران میں ہونے والے مظاہرے ایران کا اندرونی معاملہ ہے پوری دنیا میں عوام اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں جو ان کا جمہوری حق ہے، گزشتہ ماہ خود امریکا میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے، مگر ایران کے مظاہروں کو جنگ کا جواز قرار دینا کسی بھی طور بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلابِ ایران کے بعد امریکا اور مغربی طاقتوں کی نظر میں ایرانی قیادت کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے، امریکا ایران کو اپنے اور اسرائیل کے مفادات اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی پالیسی دباؤ، پابندیوں اور ایران کو عالمی برادری میں مکمل طور پرتنہا کردینے کی ہے، ایران کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ امریکی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ اسرائیل کو جائز ریاست سمجھتا ہے۔ ایران کا یہ جرم امریکا کے لیے ناقابل ِ معافی جرم بن گیا ہے، اسی لیے امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عاید کی ہوئی ہیں، ایرانی اثاثے منجمد ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو ایران سے کاروباری سرگرمیوں سے روکا گیا ہے، امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آگئے تو اسرائیل کا ناجائز وجود جس کا وہ پشتیبان ہے خطرے سے دوچار ہو جائے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار نہیں رہ سکے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، ایران پر باربار حملے کی دھمکیوں کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی اقدام کا بھی اعلان کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ ایران سے تجارت کرنے والے تمام ممالک پر 25 فی صد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ان کے مطابق امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرے گا اور تمام ممالک کو امریکی پالیسیوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ امریکی صدر کا یہ بیان کس قدر سفاکانہ ہے کہ تمام ممالک کو امریکی پالیسیوں کا خیال رکھنا ہوگا، چاہیے وہ خود بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا خیال نہ رکھیں۔ امریکی صدر آج طاقت کے نشے میں جس لب و لہجے کا اظہار کر رہے ہیں مہذب دنیا کو کسی طور اس کی تائید و حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ امریکی صدر کا طرز عمل دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرے گا۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کے پاسداری اور بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے جرأت مندانہ موقف اختیار کرنا ہو گا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول دنیا میں قیامِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ایران کے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان