Jasarat News:
2026-07-24@03:00:27 GMT

گھیرائو کی عالمی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-03-6
دنیا ایک بار پھر یک طرفہ تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ یک طرفہ اس لیے کہ سب کچھ امریکا اور مغربی بلاک کی خواہشات اور منصوبوں کے عین مطابق ہورہا ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جارج ڈبلیو بش نے جو ایجنڈا نامکمل چھوڑا تھا اسے ڈونلڈ ٹرمپ پوراکرنے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ ناپسندیدہ اور خود سر اور سرکش ملکوں اور شخصیات کے تخت بش دوم کے دور میں گرائے گئے تھے اور باقی ماندہ نشان زدہ ملک اور حکمران اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ ماضی میں کہنے کو بدی کا محور قرار پانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچ نام شامل تھے جن میں چار مسلمان دنیا سے تعلق رکھتے تھے مگر حقیقت میں یہ فہرست طویل تھی۔ مسلمان ملکوں اور حکمرانوں نے اپنی قطار میں سے ایک شخص کو مقتل کی طرف بڑھتے دیکھا اور سر قلم ہونے کا نظارہ کرکے سکھ کا سانس بھی لیا کہ چلیں مقامی درد ِ سر سے نجات ملی، مگر حقیقت میں یہ سب باریوں کا کھیل تھا۔ مقتل کی بھینٹ چڑھنے والا صرف اپنا نمبر لگنے اور باری آنے کا سزاوار تھا جبکہ دیوار پر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا ’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘۔ آج سب کے چراغ بجھ چکے ہیں۔ آج ایران کا چراغ اس ہوا کی زد پر ہے۔ وہی ایران جس نے ایک موہوم امید پر صدام حسین اور ملا عمر کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے میں مدد دی تھی۔ شام میں برسوں کی خوں ریزی کے بعد ایک تبدیلی آئی تو معاملات کو چھوٹی فریم میں رکھ کر سوچنے والے خوشیاں منا رہے تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ حماس کی کمک اور ایران سے مدد کا آخری روزن تھا جو بند ہوگیا تھا۔ جولانی سے زلنسکی تک سب ایک ہی کردار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امریکی جنگوں کے خاتمے کے نام پر آگے بڑھ رہے تھے مگر انہیں ذلیل کرکے اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ دہشت گردی کے نام پر جنگ میں امریکی فوجیوں کی پرچم میں لپٹی لاشوں کو وصول کرکے تھک جانے والی امریکی رائے عامہ نے ٹرمپ کے دعوے کو ایک نئی صبح کے طلوع کے طور پر دیکھا تھا مگر ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کی صورت میں جو صبح طلوع ہوئی داغدار ہی نہیں تاریکیوں سے بدتر تھی۔ ٹرمپ کو ذلت اور رسوائی کا نشان، بدعنوان اخلاقی پستی کا شکار بڑبولا بدلحاظ امریکا کی عالمی آن بان شان کے مطابق نہ ہونے والا غرض یہ ہے کہ امریکی اسٹیبشلمنٹ نے اس شخص کو بدنام کرنے کا کون سا حربہ اختیار نہ کیا مگر وہ اس کی عوامی مقبولیت کو کم نہ کر سکے۔ عوام کو ٹرمپ سے بدظن کرنے کے لیے امریکی جنگ بازوں نے جو انداز اختیار کیا اس کی جھلک دنیا کے کئی ملکوں میں چھوٹے پیمانے پردکھائی دیتی ہے۔ سب حربے ناکام ہوئے تو چار وناچار ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قبول وایجاب ہوا اور ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ کا قیدی بن جانا قبول کرلیا۔ اب امریکا بہت تیزی کے ساتھ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کررہا ہے۔ اس وقت دنیا پر گھیراؤ کی سیاست کا راج اور یہی سوچ غالب ہے۔ ایک گھیرا توڑنا مقصود ہے تو دوسرا گھیرا مکمل کرنا مقصد ہے۔

امریکی کے شہ دماغ پروفیسر سیموئیل ہنٹگٹن نے نوے کی دہائی میں امریکا کو درپیش عالمی چیلنجز کی جو فہرست بنائی تھی اس میں اسلامی تہذیب کے فوراً بعد کنفیوشس تہذیب کا نام آتا تھا۔ گویا کہ جونہی امریکا دہشت گردی اور القاعدہ کے نام پر مسلم دنیا کے اعصاب شل کرنے کے مشن سے فارغ ہوگا تو آگے چین ایک اقتصادی اور تہذیبی خطرے کے طور پر موجود ہوگا۔ مسلم دنیا کا بیریئر ٹوٹ گرا۔ ایک ایک کرکے ملک رجیم چینج کا شکار ہوئے۔ ان کے وسائل پر امریکا کا کنٹرول ہوگیا۔ اس کے نام ونسب رکھنے والے حکمران غاروں سے پتھر کے دور کے انسان کی طرح ہیبت ناک شکلوں کے ساتھ برآمد ہوئے یا پھر گٹر کے پائپوں سے زخمی حالت میں عوامی ہجوم کے پتھرائو کی زد میں نظر آئے۔ جہاں چین کا گھیرائو مقصد تھا وہیں اسرائیل کا گھیرا توڑنا بھی کم اہم نہیں تھا۔ وسائل کے ساتھ ساتھ یہ تہذیبی بالادستی کا معاملہ بھی تھا۔ اسرائیل کا وجود ایک خوف کے سائے تلے قائم تھا۔ ایک موعود مقدس ریاست کے ڈوب جانے کا خوف۔ یہ خوف اس لیے حقیقت تھا کہ اسرائیل مسلمانوں کے سمندر میں ایک مصنوعی جزیرہ تھا۔ اسرائیل کا تخلیق کار اور سرپرست چونکہ مغرب تھا اس لیے سرد جنگ کے زمانے میں سوویت نواز مسلم اور غیر مسلم حکمران اس کے مخالف تھے۔ اسرائیل کا پہلا اور قریبی حصار مصر، اْردن لبنان اور شام تھے۔ مصر اور لبنان خانہ جنگی کا شکار رہے ایک کے بعد ایک ملک نیوٹرل کیا گیا۔ کچھ خانہ جنگی کے باعث اپنی ہی آگ میں جلتے رہے کچھ کا ڈنگ نکال دیا گیا۔ دوسرا حصار اس باہر تھا عراق اور ایران پاکستان وغیرہ تھا۔ عراق کا ایٹمی ری ایکٹر1981میں دھوم دھڑکے کے ساتھ اسرائیل نے تباہ کیا۔

مسلمان دنیا کے پاس ایٹمی صلاحیت کی موجودگی بھی ایک خوف کی علامت تھی۔ لیبیا کا ایٹمی مواد ٹین ڈبوں میں بھر کر یوکرین پہنچایا گیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تعاقب مدتوں جاری رہا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر قدیر خان کو پاکستانی میزائلوں کی تل ابیب تک مار اور اس جانب رُخ کرنے کی سزا دی گئی۔ انہیں مسٹر نیوک کا تحقیر آمیز خطاب دیا گیا۔ ایک شاہانہ زندگی کے حامل شخص نے زندگی کا آخری دور قیدی کے طور پر گزارا۔ ایران کا ایٹمی پروگرام بھی نشانہ تھا اور اس کا بیرون ایران ایجنڈا بھی خوف کی وجہ تھا۔ ایران نے اسرائیل کے گرد اپنے اتحادیوں کے ذریعے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ حزب اللہ، حوثی ملیشیا، شا م حماس کی کمک کا حصار تھا۔ یہ حصار ٹوٹ گرا اور اب حماس حالات کے رحم وکرم پر ہے۔ فلسطینیوں کا بین الاقوامی کمک کا میدان بھی تھا جن میں سوویت یونین کی سوچ وفکر کے حامل ممالک اور شخصیات نمایاں تھیں۔ ان میں لاطینی امریکا کے حکمران بھی تھے جنہوں نے اسرائیل کے وجود اور مظالم پر عالمی فورموں پر اعتراضات اْٹھائے تھے اور صدام حسین جیسے بھی جنہوں نے کبھی اسرائیل کی طرف میزائل اْچھالنے کی جرأت کی تھی سب ایک ہی انجام کا شکار ہوئے۔ وینز ویلا کے صدر مادورو کو جس ذلت آمیز طریقے سے اْٹھایا گیا اس میں بھی صدام اور قذافی کے انجام کی آتش انتقام جھلک رہی ہے۔ مادورو کی تصویروں میں ان کی فلسطین دوستی جابہ جا ملتی ہے۔ کہیں وہ فلسطین کا مخصوص اسکارف گلے میں ڈالے ہوئے ہیں تو کہیں وہ فلسطینی پرچم لپیٹے نظر آرہے ہیں۔ یوں چین کا گھیرا مکمل ہورہا ہے اور اسرائیل کا گھیرا ٹوٹتا چلا جا رہا ہے جو اس جنگ کا تہذیبی پہلو ہے۔ تیل معدنیات اور تجارت اس جنگ کا معاشی پہلو ہے۔ ایران آخری اسپیڈ بریکر ہے جس کے بعد افغانستان کی باری ہے یوں کھیل آخری مرحلے میں پہنچے گا جہاں پھر صومالی لینڈ کی طرح کئی نئی لکیریں پھرنے کا مرحلہ ہوگا۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کا کے نام پر کا گھیرا کا شکار کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم