اسپتال کی اے آئی تجربہ گاہ: علاج میں انقلاب یا نئے خطرات
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یہ حقیقت اب کسی قیاس یا سائنسی فکشن تک محدود نہیں رہی کہ جدید اسپتال تیزی سے مصنوعی ذہانت کی عملی تجربہ گاہوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ جہاں کبھی سفید کوٹ، تجربہ کار ہاتھ اور برسوں کی طبی بصیرت علاج کا مرکز ہوا کرتی تھی، وہاں اب الگورتھم، ڈیٹا سیٹس اور مشین لرننگ ماڈلز خاموشی سے فیصلوں کی رفتار اور سمت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ علاج کے عمل میں یہ تبدیلی بیک وقت امید افزا بھی ہے اور فکری اضطراب کا باعث بھی، کیونکہ ایک طرف مصنوعی ذہانت انسانی کمزوریوں کو سہارا دے رہی ہے تو دوسری جانب خود اپنی خامیوں کے باعث نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔
دنیا کے ممتاز طبی اداروں میں آج اے آئی کو محض ایک معاون ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک فعال شریک کے طور پر آزمایا جا رہا ہے۔ مریضوں کے ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کی تشریح ہو یا لیبارٹری رپورٹوں کی تیاری، ڈاکٹروں کے طویل نوٹس کو مختصر اور مربوط شکل دینا ہو یا انشورنس کمپنیوں کے سخت گیر نظام کے خلاف اپیلیں تحریر کرنا ہوں، ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔ اس کا سب سے نمایاں اثر ریڈیولوجی میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں مشینیں چند سیکنڈز میں وہ باریک نقوش دیکھ لیتی ہیں جو بعض اوقات انسانی آنکھ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ خصوصاً چھاتی کے کینسر جیسی بیماریوں میں، جہاں ابتدائی مرحلے کی خاموش علامات زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہیں، اے آئی کی تشخیص نے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔ تاہم یہ تصویر جتنی روشن دکھائی دیتی ہے، اس کے سائے بھی اتنے ہی گہرے ہیں۔ طبی ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت اپنی تمام تر تیزی اور حسابی مہارت کے باوجود انسانی فیصلے کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے آئی اپنا فہم نہیں رکھتی بلکہ وہ ڈیٹا کے نمونوں پر انحصار کرتی ہے۔ اگر یہ ڈیٹا جانبدار، نامکمل یا مخصوص آبادی تک محدود ہو تو نتائج بھی اسی تعصب کے حامل ہوں گے۔ یوں ایک غلط الگورتھم سیکڑوں مریضوں کے لیے غلط سمت کا تعین کر سکتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سہولت خطرے میں بدل جاتی ہے۔
امریکا میں صحت کے شعبے میں اے آئی کے پھیلاؤ کی رفتار اس حقیقت کی غماز ہے کہ طبی نظام دباؤ میں ہے۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد، ڈاکٹروں کی قلت، علاج کے بڑھتے اخراجات اور انشورنس نظام کی پیچیدگیاں ایسے عوامل ہیں جنہوں نے اسپتالوں کو ٹیکنالوجی کی طرف مائل کیا۔ تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ صحت کے نظام سے وابستہ تقریباً ایک تہائی ادارے باقاعدہ طور پر کمرشل اے آئی لائسنس خرید چکے ہیں، جو مجموعی معیشت میں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ طب میں اے آئی کو ایک تعیش نہیں بلکہ ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا رفتار ہمیشہ درستی کی ضمانت ہوتی ہے؟ کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت نے مریض کی حالت کو غلط انداز میں پیش کیا یا خطرے کی سطح کو کم یا زیادہ ظاہر کیا۔ بعض نظام ایسے مریضوں کو کم ترجیح دیتے پائے گئے جن کا تعلق مخصوص نسلی یا سماجی گروہوں سے تھا، کیونکہ تربیتی ڈیٹا میں ان کی نمائندگی کم تھی۔ یہ خامیاں محض تکنیکی نہیں بلکہ اخلاقی نوعیت کی ہیں، جو طب جیسے حساس شعبے میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔اسی لیے ڈاکٹرز اور پالیسی ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو فیصلہ ساز کے بجائے فیصلہ معاون کے طور پر رکھا جائے۔ انسانی نگرانی، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور شفافیت وہ ستون ہیں جن کے بغیر یہ ٹیکنالوجی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک تجربہ کار معالج کی بصیرت، مریض کی کیفیت کو سمجھنے کی صلاحیت اور انسانی ہمدردی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی مشین میں مکمل طور پر منتقل نہیں کیے جا سکتے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا وہ خود کو اس ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں گے یا اس کے سامنے مزاحمت کریں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ جدید طب میں کامیاب وہی ہوگا جو دونوں کے درمیان توازن قائم کر سکے۔ نہ اندھی تقلید، نہ مکمل انکار۔ اے آئی کی قوت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حدود کا ادراک ہی مستقبل کی محفوظ راہ ہے۔ یوں اسپتال واقعی ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکے ہیں جہاں انسانی عقل اور مصنوعی ذہانت آمنے سامنے نہیں بلکہ شانہ بشانہ آزمائش کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اگر یہ تجربہ دانش، احتیاط اور اخلاقی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھا تو علاج تیز، مؤثر اور زیادہ منصفانہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس میں غفلت یا حد سے زیادہ اعتماد شامل ہو گیا تو یہی ٹیکنالوجی صحت کے نظام کے لیے ایک نیا بحران بھی پیدا کر سکتی ہے۔ فیصلہ اب انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس طاقتور آلے کو کس سمت میں استعمال کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت ا نہیں بلکہ یہ ہے کہ رہے ہیں اے ا ئی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :