Jasarat News:
2026-06-02@22:15:40 GMT

گھیرائو کی عالمی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا ایک بار پھر یک طرفہ تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ یک طرفہ اس لیے کہ سب کچھ امریکا اور مغربی بلاک کی خواہشات اور منصوبوں کے عین مطابق ہورہا ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جارج ڈبلیو بش نے جو ایجنڈا نامکمل چھوڑا تھا اسے ڈونلڈ ٹرمپ پوراکرنے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ ناپسندیدہ اور خود سر اور سرکش ملکوں اور شخصیات کے تخت بش دوم کے دور میں گرائے گئے تھے اور باقی ماندہ نشان زدہ ملک اور حکمران اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ ماضی میں کہنے کو بدی کا محور قرار پانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچ نام شامل تھے جن میں چار مسلمان دنیا سے تعلق رکھتے تھے مگر حقیقت میں یہ فہرست طویل تھی۔ مسلمان ملکوں اور حکمرانوں نے اپنی قطار میں سے ایک شخص کو مقتل کی طرف بڑھتے دیکھا اور سر قلم ہونے کا نظارہ کرکے سکھ کا سانس بھی لیا کہ چلیں مقامی درد ِ سر سے نجات ملی، مگر حقیقت میں یہ سب باریوں کا کھیل تھا۔ مقتل کی بھینٹ چڑھنے والا صرف اپنا نمبر لگنے اور باری آنے کا سزاوار تھا جبکہ دیوار پر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا ’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘۔ آج سب کے چراغ بجھ چکے ہیں۔ آج ایران کا چراغ اس ہوا کی زد پر ہے۔ وہی ایران جس نے ایک موہوم امید پر صدام حسین اور ملا عمر کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے میں مدد دی تھی۔ شام میں برسوں کی خوں ریزی کے بعد ایک تبدیلی آئی تو معاملات کو چھوٹی فریم میں رکھ کر سوچنے والے خوشیاں منا رہے تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ حماس کی کمک اور ایران سے مدد کا آخری روزن تھا جو بند ہوگیا تھا۔ جولانی سے زلنسکی تک سب ایک ہی کردار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امریکی جنگوں کے خاتمے کے نام پر آگے بڑھ رہے تھے مگر انہیں ذلیل کرکے اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ دہشت گردی کے نام پر جنگ میں امریکی فوجیوں کی پرچم میں لپٹی لاشوں کو وصول کرکے تھک جانے والی امریکی رائے عامہ نے ٹرمپ کے دعوے کو ایک نئی صبح کے طلوع کے طور پر دیکھا تھا مگر ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کی صورت میں جو صبح طلوع ہوئی داغدار ہی نہیں تاریکیوں سے بدتر تھی۔ ٹرمپ کو ذلت اور رسوائی کا نشان، بدعنوان اخلاقی پستی کا شکار بڑبولا بدلحاظ امریکا کی عالمی آن بان شان کے مطابق نہ ہونے والا غرض یہ ہے کہ امریکی اسٹیبشلمنٹ نے اس شخص کو بدنام کرنے کا کون سا حربہ اختیار نہ کیا مگر وہ اس کی عوامی مقبولیت کو کم نہ کر سکے۔ عوام کو ٹرمپ سے بدظن کرنے کے لیے امریکی جنگ بازوں نے جو انداز اختیار کیا اس کی جھلک دنیا کے کئی ملکوں میں چھوٹے پیمانے پردکھائی دیتی ہے۔ سب حربے ناکام ہوئے تو چار وناچار ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قبول وایجاب ہوا اور ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ کا قیدی بن جانا قبول کرلیا۔ اب امریکا بہت تیزی کے ساتھ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کررہا ہے۔ اس وقت دنیا پر گھیراؤ کی سیاست کا راج اور یہی سوچ غالب ہے۔ ایک گھیرا توڑنا مقصود ہے تو دوسرا گھیرا مکمل کرنا مقصد ہے۔

امریکی کے شہ دماغ پروفیسر سیموئیل ہنٹگٹن نے نوے کی دہائی میں امریکا کو درپیش عالمی چیلنجز کی جو فہرست بنائی تھی اس میں اسلامی تہذیب کے فوراً بعد کنفیوشس تہذیب کا نام آتا تھا۔ گویا کہ جونہی امریکا دہشت گردی اور القاعدہ کے نام پر مسلم دنیا کے اعصاب شل کرنے کے مشن سے فارغ ہوگا تو آگے چین ایک اقتصادی اور تہذیبی خطرے کے طور پر موجود ہوگا۔ مسلم دنیا کا بیریئر ٹوٹ گرا۔ ایک ایک کرکے ملک رجیم چینج کا شکار ہوئے۔ ان کے وسائل پر امریکا کا کنٹرول ہوگیا۔ اس کے نام ونسب رکھنے والے حکمران غاروں سے پتھر کے دور کے انسان کی طرح ہیبت ناک شکلوں کے ساتھ برآمد ہوئے یا پھر گٹر کے پائپوں سے زخمی حالت میں عوامی ہجوم کے پتھرائو کی زد میں نظر آئے۔ جہاں چین کا گھیرائو مقصد تھا وہیں اسرائیل کا گھیرا توڑنا بھی کم اہم نہیں تھا۔ وسائل کے ساتھ ساتھ یہ تہذیبی بالادستی کا معاملہ بھی تھا۔ اسرائیل کا وجود ایک خوف کے سائے تلے قائم تھا۔ ایک موعود مقدس ریاست کے ڈوب جانے کا خوف۔ یہ خوف اس لیے حقیقت تھا کہ اسرائیل مسلمانوں کے سمندر میں ایک مصنوعی جزیرہ تھا۔ اسرائیل کا تخلیق کار اور سرپرست چونکہ مغرب تھا اس لیے سرد جنگ کے زمانے میں سوویت نواز مسلم اور غیر مسلم حکمران اس کے مخالف تھے۔ اسرائیل کا پہلا اور قریبی حصار مصر، اْردن لبنان اور شام تھے۔ مصر اور لبنان خانہ جنگی کا شکار رہے ایک کے بعد ایک ملک نیوٹرل کیا گیا۔ کچھ خانہ جنگی کے باعث اپنی ہی آگ میں جلتے رہے کچھ کا ڈنگ نکال دیا گیا۔ دوسرا حصار اس باہر تھا عراق اور ایران پاکستان وغیرہ تھا۔ عراق کا ایٹمی ری ایکٹر1981میں دھوم دھڑکے کے ساتھ اسرائیل نے تباہ کیا۔

مسلمان دنیا کے پاس ایٹمی صلاحیت کی موجودگی بھی ایک خوف کی علامت تھی۔ لیبیا کا ایٹمی مواد ٹین ڈبوں میں بھر کر یوکرین پہنچایا گیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تعاقب مدتوں جاری رہا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر قدیر خان کو پاکستانی میزائلوں کی تل ابیب تک مار اور اس جانب رُخ کرنے کی سزا دی گئی۔ انہیں مسٹر نیوک کا تحقیر آمیز خطاب دیا گیا۔ ایک شاہانہ زندگی کے حامل شخص نے زندگی کا آخری دور قیدی کے طور پر گزارا۔ ایران کا ایٹمی پروگرام بھی نشانہ تھا اور اس کا بیرون ایران ایجنڈا بھی خوف کی وجہ تھا۔ ایران نے اسرائیل کے گرد اپنے اتحادیوں کے ذریعے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ حزب اللہ، حوثی ملیشیا، شا م حماس کی کمک کا حصار تھا۔ یہ حصار ٹوٹ گرا اور اب حماس حالات کے رحم وکرم پر ہے۔ فلسطینیوں کا بین الاقوامی کمک کا میدان بھی تھا جن میں سوویت یونین کی سوچ وفکر کے حامل ممالک اور شخصیات نمایاں تھیں۔ ان میں لاطینی امریکا کے حکمران بھی تھے جنہوں نے اسرائیل کے وجود اور مظالم پر عالمی فورموں پر اعتراضات اْٹھائے تھے اور صدام حسین جیسے بھی جنہوں نے کبھی اسرائیل کی طرف میزائل اْچھالنے کی جرأت کی تھی سب ایک ہی انجام کا شکار ہوئے۔ وینز ویلا کے صدر مادورو کو جس ذلت آمیز طریقے سے اْٹھایا گیا اس میں بھی صدام اور قذافی کے انجام کی آتش انتقام جھلک رہی ہے۔ مادورو کی تصویروں میں ان کی فلسطین دوستی جابہ جا ملتی ہے۔ کہیں وہ فلسطین کا مخصوص اسکارف گلے میں ڈالے ہوئے ہیں تو کہیں وہ فلسطینی پرچم لپیٹے نظر آرہے ہیں۔ یوں چین کا گھیرا مکمل ہورہا ہے اور اسرائیل کا گھیرا ٹوٹتا چلا جا رہا ہے جو اس جنگ کا تہذیبی پہلو ہے۔ تیل معدنیات اور تجارت اس جنگ کا معاشی پہلو ہے۔ ایران آخری اسپیڈ بریکر ہے جس کے بعد افغانستان کی باری ہے یوں کھیل آخری مرحلے میں پہنچے گا جہاں پھر صومالی لینڈ کی طرح کئی نئی لکیریں پھرنے کا مرحلہ ہوگا۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کا کے نام پر کا گھیرا کا شکار کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار