Jasarat News:
2026-06-02@22:23:41 GMT

ایران کے سیاسی و فکری ڈائنامکس اور موجودہ حالات

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خاکسار کی عمر کا ایک حصّہ تہران میں گزرا ہے۔ وہاں موجود پاکستانی ایمبیسی اسکول سے انٹر کیا اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پاکستانی کمیونٹی آٹے میں نمک کے برابر ہے؛ لہٰذا ہمارا اٹھنا بیٹھنا ایرانیوں کے ساتھ ہی رہا۔ تہران یونیورسٹی کا زمانہ تو ایرانی طلّاب کے ساتھ رہا جنہیں دانشجو کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ہم ہر طرح کے ایرانیوں سے واقف ہوئے، یوں کہہ لیجیے کہ ایرانی سماج، ثقافت اور فکری تنوّع سے براہِ راست آشنائی ہوئی۔ مجھے ذاتی طور پر ایرانی اپنے سے لگتے ہیں اور ایرانی بھی میری وضع قطع اور تہرانی لب و لہجے کی بنا پر مجھے اکثر ایرانی ہی سمجھتے تھے۔ تہران میں گزارا ہوا یہ زمانہ میری فکری آبیاری میں نہایت اہم ثابت ہوا، اور اسی دوران کئی ایرانی مفکّرین سے شناسائی ہوئی۔ اگر میں قم میں رہتا یا صرف پاکستانیوں کے درمیان محدود رہتا تو شاید یہ سب کچھ حاصل نہ ہو پاتا۔

ایران کے حوالے سے کافی لوگ لکھ رہے ہیں، مجھے محسوس ہوا کہ اکثر لوگ ایرانی سیاسی و فکری ڈائنامکس سے واقف نہیں ہیں، اس لیے سطحی یا غلط تجزیہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی لیے یہ تحریر لکھنا لازمی سمجھا تاکہ ایران کی فکری تنوّع (diversity) سے متعلق آگاہی دے سکوں۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ایران کی اکثریت شیعہ اثنا عشری ہے جبکہ اہل سنت کی بھی ایک معقول تعداد ملک کے کچھ حصّوں میں آباد ہے۔ لیکن ایک بنیادی غلطی اکثر کی جاتی ہے کہ ایرانی شیعوں کو پاکستانی یا ہندوستانی شیعوں کی مانند سمجھ لیا جاتا ہے۔ برصغیر میں شیعہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اہل ِ بیت سے محبت اور عزاداری کے ذریعے اس کا ایک رشتہ بہرحال باقی قوم سے جڑا رہتا ہے۔ یہ بات ایرانی شیعوں پر اسی طرح منطبق نہیں ہوتی۔ ایران میں یا تو لوگ مذہبی ہیں یا غیر مذہبی؛ ان کے ہاں درمیان کی کوئی چیز بہت کم پائی جاتی ہے۔ جیسے پاکستان میں ہر شخص کسی نہ کسی طرح دین سے جڑا ہے اور دینی شعائر کا احترام کرتا ہے؛ ایران میں یہ وصف تقریباً صرف مذہبی طبقے تک محدود ہے؛ جو مذہبی نہیں، وہ عموماً مذہب بیزار ہوتا ہے۔ ایرانیوں کے اس ایکسٹریم رویّے کا اظہار میں نے متعدد ایرانی مفکّرین سے کیا تو انہوں نے اس بات کی تائید کی۔ اس کی ایک واضح دلیل بیرونِ ایران مقیم ایرانیوں کی اکثریت ہے، جو بڑی حد تک مذہب بیزار نظر آتی ہے؛ محض ایک اقلیتی طبقہ ہی کسی درجے میں مذہب سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم قارئین اس بات کی تائید کریں گے۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ ایران کی موجودہ اسلامی رجیم تبدیل ہو جائے تو حکومت پھر بھی کسی شیعہ کی ہی ہوگی، شدید سادہ لوحی ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی افراد کی اکثریت اسلامی حکومت کی حامی ہے۔ جو مذہب سے وابستہ نہیں تو وہ ملحد یا مذہب بیزار افراد بچتے ہیں۔ ایران پاکستان نہیں ہے؛ پاکستان کے شیعہ چاہے لبرل ہوں یا متشکّک ہوں، ان کے اندر مومن بھائی والی Spark موجود ہوگی جبکہ ایران میں مومن بھائی تو چھوڑیں مسلمان بھائی والی رمق بھی شاذ و نادر نظر آتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملّاؤں کی حکومت ختم ہو گئی تو پاکستان اور عراق جیسی نیوٹرل مسلمانوں کی حکومت آ جائے گی، تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ یہ رجیم ختم ہو گئی تو سمجھ لیں کہ بالکل مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آئے گا جس کے اسرائیل سے قریبی روابط ہوں گے۔ شاہ ایران کے دور سے بھی بدتر حالات ہوں گے۔ مسلمان صرف برائے نام ہی رہ جائیں گے۔ اسلامی شعائر کی توہین عام ہوگی جس کی مثالیں اس وقت بعض مظاہروں میں مساجد اور مزارات کو نذرِ آتش کرنے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر اگر ایران کی ڈیموگرافی کو سمجھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:1) مذہبی افراد جو کہ اسلامی رجیم کے ساتھ ہیں۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے اگر پورے ایران کو مدّنظر رکھا جائے۔ 2) مذہبی افراد جو اسلامی رجیم کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای کو نہیں مانتے۔ یہ اسلامی انقلاب کے وہ حامی ہیں جنہیں رہبر سے سیاسی اختلاف ہے۔ ان میں مرحوم آیت اللہ منتظری کے مقلّدین شامل ہیں۔ 3) مذہبی افراد جو اسلامی حکومت کو نہیں مانتے، بلکہ نظریۂ ولایت ِ فقیہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ افراد کل مذہبی آبادی کا بمشکل دس فی صد ہوں گے۔ ان میں بعض علماء و مراجع اور ان کے مقلّدین شامل ہیں۔ اس میں معروف اپوزیشن پارٹی ’مجاہدین ِ خلق‘ کے ایک حصّے کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر سوشلسٹ اور بعض لبرل افراد کو بھی شامل کر سکتے ہیں جو ذاتی طور پر مذہب کو مانتے ہیں۔ 4) باقی بچتے ہیں غیر مذہبی افراد جو یا تو ملحد ہیں یا دین سے بیزار ہیں۔ واضح رہے کہ میرے پاس ان طبقات کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعداد و شمار یا مستند سروے موجود نہیں، لیکن اپنے مشاہدے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تقریباً ساٹھ فی صد ایرانی پہلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی چالیس فی صد دیگر طبقات پر مشتمل ہیں۔ جو پہلا طبقہ ہے وہی ایران میں اس وقت کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس طبقے کو سیاسی لحاظ سے مزید دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ الف) قدامت پسند۔ ب) اصلاح پسند۔

قدامت پسند وہ افراد ہیں جن کے نزدیک موجودہ ایرانی نظام بالکل درست ہے، اس میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے، رہبر معظم کے پاس لامحدود اختیارات بالکل ٹھیک ہیں۔ ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسی بھی بہترین ہے، یونہی امریکا و اسرائیل کو تْن کر رکھنا چاہیے۔ جبکہ اصلاح پسند وہ افراد ہیں جن کے نزدیک موجودہ نظام میں اصلاح ہونی چاہیے، ایک فرد یا کچھ خاص اداروں کے پاس طاقت کا مرکز کافی زیادہ ہے جس کو کم ہونا چاہیے۔ جبکہ عوام کے منتخب صدر اور مجلس کے اختیارات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایران کو اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کو بدلنا چاہیے؛ اقوام عالم کے ساتھ اچھے روابط رکھنے چاہییں۔ یہ طبقہ مذہب پر بھی کاربند ہے اور انقلاب اسلامی کو بھی مانتا ہے لیکن یہ موجودہ نظام اور پالیسیوں میں اصلاح چاہتا ہے۔ افسوس ہوا جب ایک فیس بک کی قدآور شخصیت کو یہ لکھتے دیکھا کہ اصلاح پسند اسلامی نظام کے خلاف ہیں۔

ایران کی موجودہ سیاست انہی دو طبقات کے گرد گھومتی ہے۔ قدامت پسندوں کی نمائندگی محمود احمدی نژاد، مرحوم ابراہیم رئیسی اور قالیباف وغیرہ کرتے رہے ہیں جبکہ اصلاح پسندوں کی نمائندگی سابق صدر سید محمد خاتمی، حسن روحانی اور موجودہ صدر پزشکیان کرتے ہیں۔ یہ دونوں طبقات آیت اللہ خامنہ ای کو رہبر تسلیم کرتے ہیں۔ اور غالباً اسی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں کو باری باری اقتدار کا موقع دیا جاتا ہے۔

اس وقت مظاہرہ کرنے والے کون لوگ ہیں؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ دیکھا جائے تو مندرجہ بالا تمام طبقات؛ حتیٰ کہ قدامت پسندوں کا ایک حصہ بھی؛ معاشی مشکلات پر شاکی ہے۔ پہلا طبقہ اسلامی رجیم کی سرنگونی نہیں چاہتا بلکہ معاشی ریلیف چاہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اصلاح پسند طبقہ یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک سے اچھے تعلقات بنائے جائیں، نیوکلیئر ڈیل کر لی جائے۔ (قدامت پسند طبقہ نیوکلیئر ڈیل کا مخالف ہے)، تاکہ پابندیاں ختم ہو جائیں اور معاشی حالات بہتر ہوں۔ بالفاظ دیگر اصلاح پسند طبقہ نظام میں تبدیلی نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔ یہ لوگ پر امن ہیں اور ہرگز نہیں چاہتے کہ ایران میں بیرونی مداخلت کے تحت انتشار پیدا ہو۔ ظاہری طور پر دوسرا طبقہ بھی رجیم کی تبدیلی کا خواہاں نہیں ہے، اور تیسرے طبقے کے زیادہ تر افراد اس معاملے میں نیوٹرل نظر آتے ہیں۔ جبکہ چوتھا طبقہ اور تیسرے طبقے کا ایک حصّہ (سوشلسٹ و لبرل رجحانات والے) اسلامی رجیم کی تبدیلی کا شدید خواہاں ہے۔ عملاً اس وقت انتشار پھیلانے کی کوشش یہی لوگ کر رہے ہیں اور پہلے طبقے کی جائز معاشی شکایات کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مغربی مداخلت کے ذریعے نظام کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ایسے افراد بمشکل بیس فی صد بھی نہیں۔ اس لیے محض عوامی احتجاج کے ذریعے اسلامی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ بیرونی مداخلت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

سید جواد حسین رضوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مذہبی افراد جو اسلامی رجیم اصلاح پسند ایران میں کہ اصلاح کہ ایران ایران کی کے ذریعے چاہتا ہے کے ساتھ رہے ہیں کا ایک ایک حص

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر