بی جے پی بھارت میں ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے، اسدالدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندو مندروں میں صرف ہندوؤں کو رکنیت دی جاتی ہے اور مسلم مذہبی اداروں میں صرف مسلمانوں کو، مگر اب ایک نیا قانون لا کر غیر مسلموں کو مسلم مذہبی اداروں میں رکن بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے میونسپل انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور مہایوتی اتحاد پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر "بنگلہ دیشی" قرار دیا جا رہا ہے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو شہریوں کی قومیت پر سوال اٹھانے کا اختیار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ اس ملک کے شہری ہیں یا نہیں، صرف اس لیے کہ آپ مسلمان ہیں۔ اسد الدین اویسی نے بی جے پی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندو مندروں میں صرف ہندوؤں کو رکنیت دی جاتی ہے اور مسلم مذہبی اداروں میں صرف مسلمانوں کو، مگر اب ایک نیا قانون لا کر غیر مسلموں کو مسلم مذہبی اداروں میں رکن بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس عمل کو شہریوں کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسد الدین اویسی کے مطابق گوا میں ایک سابق رکنِ اسمبلی سے ہندوستانی شہریت کا ثبوت مانگا گیا، جو اس عمل کے غلط استعمال کی مثال ہے۔ اسد الدین اویسی نے مسلمانوں سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان لوگوں کو ووٹ نہیں دے سکتے جو ہماری مساجد اور درگاہیں چھین لیتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے مجلس کے تمام امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) میں ان کی پارٹی کی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر ایم آئی ایم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے یقین دہانی کرائی کہ انہیں تنظیم میں مناسب ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی نے کرتے ہوئے جا رہی ہے انہوں نے بی جے پی کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔