دورۂ جنوبی افریقہ، پاکستان ویمنز ٹیم کے ون ڈے اور ٹی20 اسکواڈز کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جنوبی افریقہ کے آئندہ دورے کے لیے پاکستان ویمنز ٹیم کے ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی20 انٹرنیشنل اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دورہ 10 فروری سے پوچیفسٹروم میں شروع ہوگا۔
پاکستان ویمنز ٹیم کی قیادت دونوں فارمیٹس میں فاطمہ ثنا ہی کریں گی، جبکہ یہ دورہ جون 2026 میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کا بھی اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ اور انڈیا کا فائنل میں مقابلہ تاریخ ساز کیوں؟
علیہ ریاض، عائشہ ظفر، گل فیروزہ، منیبہ علی، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، رمین شمیم، سعدیہ اقبال، صدیقہ امین اور تسمیہ رباب دونوں اسکواڈز میں شامل ہیں۔ جبکہ ان کیپڈ بیٹر سائرہ جبین اور دائیں ہاتھ کی فاسٹ بولر ہمنہ بلال کو پہلی مرتبہ ٹی20 انٹرنیشنل اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
اوپننگ بیٹرز عائشہ ظفر اور گل فیروزہ کے ساتھ بائیں ہاتھ کی فاسٹ بولر تسمیہ رباب اور وکٹ کیپر بیٹر ناجیہ علوی کو 15 رکنی ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جو اس سے قبل ون ڈے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں تھیں۔
ڈیانہ بیگ، ناجیہ علوی، صدف شمس اور سیدہ عروب شاہ صرف ون ڈے اسکواڈ کا حصہ ہوں گی، جبکہ ہمنہ بلال، سائرہ جبین، طوبیٰ حسن اور ایمن فاطمہ صرف ٹی20 اسکواڈ میں شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عالیار کرکٹر بنے تو یہ نہ کہا جائے کہ میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل ہوا، شاہین آفریدی
دورے کے دوران ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض ہوں گے، جن کی معاونت تجربہ کار کوچنگ اسٹاف کرے گا، جس میں عمران فرحت (بیٹنگ کوچ)، امید آصف (فاسٹ بولنگ کوچ)، عبدالرؤف رحمان (اسپن بولنگ کوچ) اور عبدالمجید (فیلڈنگ کوچ) شامل ہیں۔
سیریز سے قبل تربیتی کیمپ یکم جنوری سے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر، کراچی میں شروع ہوگا۔
ٹی20 میچز 10 سے 16 فروری کے درمیان پوچیفسٹروم، بینونی اور کمبرلے میں کھیلے جائیں گے اور تمام میچز ڈے اینڈ نائٹ ہوں گے۔ اس کے بعد پاکستان ٹیم ون ڈے سیریز سے قبل 19 فروری کو کمبرلے میں 50 اوورز کا وارم اپ میچ کھیلے گی۔
ون ڈے سیریز کے 3 میچز 22 فروری سے یکم مارچ کے دوران بلوم فونٹین، سینچورین اور ڈربن میں ہوں گے۔ دوسرا ون ڈے ڈے اینڈ نائٹ ہوگا، جبکہ پہلا اور تیسرا ون ڈے دن کے وقت کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی کرکٹ بورڈ کا متعصبانہ فیصلہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا
واضح رہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم جنوری 2021 کے بعد پہلی بار 2 طرفہ سیریز کے لیے جنوبی افریقہ کا دورہ کر رہی ہے۔ اس سے قبل فروری 2023 میں پاکستان ٹیم نے آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ میں شرکت کی تھی۔
ٹی20 اسکواڈفاطمہ ثنا (کپتان)، علیہ ریاض، عائشہ ظفر، ایمن فاطمہ، گل فیروزہ (وکٹ کیپر)، ہمنہ بلال، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، رمین شمیم، سعدیہ اقبال، سائرہ جبین، صدیقہ امین، تسمیہ رباب، طوبیٰ حسن
ون ڈے اسکواڈفاطمہ ثنا (کپتان)، علیہ ریاض، عائشہ ظفر، ڈیانہ بیگ، گل فیروزہ، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، ناجیہ علوی (وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، رمین شمیم، صدف شمس، سعدیہ اقبال، صدیقہ امین، سیدہ عروب شاہ، تسمیہ رباب
سپورٹ اسٹافوہاب ریاض (مینٹور)، عمران فرحت (بیٹنگ کوچ)، امید آصف (فاسٹ بولنگ کوچ)، عبدالرؤف رحمان (اسپن بولنگ کوچ)، عبدالمجید (فیلڈنگ کوچ)، معین (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ)، ولید احمد (پرفارمنس اینالسٹ)، عائشہ اشعر (ٹیم منیجر)، تحریم سمبل (فزیوتھراپسٹ) اور رضا رشید کچلو (میڈیا منیجر)
دورۂ جنوبی افریقہ شیڈول (10 فروری تا 1 مارچ)10 فروری – پہلا ٹی20، پوچیفسٹروم (ڈے/نائٹ)
13 فروری – دوسرا ٹی20، بینونی (ڈے/نائٹ)
16 فروری – تیسرا ٹی20، کمبرلے (ڈے/نائٹ)
19 فروری – 50 اوور وارم اپ میچ، کمبرلے (دن)
22 فروری – پہلا ون ڈے، بلوم فونٹین (دن)
25 فروری – دوسرا ون ڈے، سینچورین (ڈے/نائٹ)
1 مارچ – تیسرا ون ڈے، ڈربن (دن)
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی سی بی ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ ویمنز کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی سی بی ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ ویمنز کرکٹ پاکستان ویمنز ٹیم جنوبی افریقہ تسمیہ رباب گل فیروزہ بولنگ کوچ وکٹ کیپر ڈے نائٹ ورلڈ کپ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ