خصوصی ناکہ لگا کر مجھ سے رشوت طلب کی گئی، اسلام آباد پولیس پر فرخ کھوکھر کے سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ خان کھوکھر کو گزشتہ رات اسلام آباد میں مختصر طور پر حراست میں لیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد فرخ خان کھوکھر نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ کھنہ پل پر ان کے لیے خصوصی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ناکے پر گاڑی روکی، مکمل تعاون کیا اور پولیس کو تلاشی کی اجازت دی۔ ان کے مطابق ناکہ صرف انہیں روکنے کے لیے لگایا گیا تھا کیونکہ ان کے وہاں سے جانے کے بعد ناکہ ختم کر دیا گیا اور دوبارہ قائم نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کی گرفتای و رہائی
فرخ کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ ناکے پر موجود اہلکاروں نے ان سے رشوت طلب کی تاہم انہوں نے رشوت دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اہلکار رشوت مانگے اس کی ویڈیو بنا کر سامنے لائی جائے کیونکہ اعلیٰ افسران ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اب وقت بدل چکا ہے۔
JUI leader and TikTok star Farrukh Khan Khokhar has arrested by Islamabad Police.
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) January 13, 2026
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ستار بندی اور آٹھ تاریخ کو ہونے والے کنونشن میں شرکت نہ کرنے کا کہا گیا اور گاڑی پر لگے پارٹی جھنڈے اتارنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیو بنا سکتے تھے لیکن ملک کی بدنامی کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسلام اباد پولیس نے فرخ کھوکھر کو گرفتار کیا تھا؟
فرخ کھوکھر کے مطابق موقع پر رش بڑھنے پر انہوں نے گاڑیاں سائیڈ کرائیں اور کہا کہ کسی قسم کی ویڈیو نہ بنائیں۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں اور انہیں خود طلب کر کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاتا ہے تو ان کے کارکنان پرامن رہیں اور قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ تاریخ کو ہونے والا کنونشن ہر صورت منعقد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے ملنے والے فرخ کھوکھر کون ہیں؟
فرخ کھوکھر نے کھنہ پل کے ایس ایچ او اور ایس پی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موقع پر پہنچ کر پولیس اہلکاروں کی سرزنش کی اور معاملہ حل کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بار بار روکنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ واپسی پر اسی مقام پر کوئی ناکہ موجود نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناکہ خصوصی طور پر انہیں روکنے کے لیے لگایا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جے یو آئی جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر فرخ کھوکھر فرخ کھوکھر کی گرفتاری و رہائی فرخ کھوکھر گرفتاری کھنہ پل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جے یو ا ئی جے یو ا ئی رہنما فرخ کھوکھر فرخ کھوکھر فرخ کھوکھر گرفتاری کھنہ پل ان کا کہنا تھا کہ فرخ کھوکھر انہوں نے کیا کہ کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔