تھائی لینڈ میں مسافر ٹرین حادثے کا شکار، 22 افراد ہلاک، 30 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک سے شمال مشرقی صوبے جانے والی ایک مسافر ٹرین بدھ کی صبح اس وقت حادثے کا شکار ہو گئی جب زیرِ تعمیر ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبے پر کام کرنے والا ایک تعمیراتی کرین اچانک گر کر ٹرین کے ایک ڈبے پر آ گرا۔
پولیس کے مطابق اس المناک حادثے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثہ ناخون راچاسیما صوبے کے ضلع سکھیو میں پیش آیا جو بینکاک سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کے شہر اڑیسہ میں ٹرین حادثہ، سوشل میڈیا پر مودی شدید تنقید کی زد میں
مقامی پولیس چیف تھاچاپون چِنناوونگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔
حکام کے مطابق ٹرین صوبہ اوبن راتچاتھانی جا رہی تھی کہ راستے میں کرین کے گرنے سے پٹری سے اتر گئی اور کچھ دیر کے لیے آگ بھی بھڑک اٹھی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی کارکن ملبہ کاٹ کر زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بینکاک تھائی لینڈ ٹرین حادثہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینکاک تھائی لینڈ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔