توشہ خانہ 2 کیس: بلغاری سیٹ کس کے پاس ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں نے نیا تنازع کھڑا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
توشہ خانہ 2 کیس سے متعلق پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت اور موجودہ رہنما مشعال یوسفزئی کے درمیان ہونے والی گفتگو نے ایک بار پھر اس معاملے کو خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام کے دوران اینکر کے سوالات کے جواب میں دونوں رہنماؤں نے کیس کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا، تاہم مبینہ طور پر تحفے کے اصل رکھنے والے فرد کا نام سامنے نہ آ سکا۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دے دیا
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق بلغاری کا قیمتی سیٹ بیرون ملک نہیں دیا گیا بلکہ بنی گالا میں سعودی سفیر نے بطور تحفہ پیش کیا تھا۔
ان کے مطابق عمران خان اگر چاہتے تو اس تحفے کو ڈیکلیئر بھی نہ کرتے اور کسی کو علم نہ ہوتا، تاہم ٹرائل کے دوران مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یہ تحفہ واپس کر دیا جائے۔
بلغاری سیٹ بشریٰ بی بی سے کون لے اڑا۔۔۔؟
شیر افضل مروت اور مشعال یوسفزئی نے اہم تفصیلات بتادیں#ARYNews #OffTheRecord pic.
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) January 13, 2026
شیر افضل مروت کے بقول بعد ازاں وہ سیٹ بشریٰ بی بی کے پاس نہیں رہا بلکہ ان کے مطابق کوئی اور شخصیت اسے لے گئی، جس کا نام انہوں نے آن ایئر لینے سے گریز کیا۔
اس موقع پر مشعال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے، اس لیے وہ تفصیلات پر بات نہیں کر سکتیں۔
تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ قیمتی تحفہ اس وقت بشریٰ بی بی کے پاس نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس میں ضمانت پانے والے عمران خان ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار قرار
مشعال یوسفزئی نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی سے منسوب کی جانے والی کئی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا نام بلاوجہ متنازع بنایا گیا ہے۔
گفتگو کے دوران شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی کردار کشی خود پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے کی گئی اور اصل ملزمہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے بشریٰ بی بی سے اسے ہتھیالیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے تحمل اور حیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خاتون کا نام نہیں لیا، حالانکہ ان کے بقول اسے عدالتی کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں مسترد
اینکر کے اس سوال پر کہ آیا وہ خاتون پی ٹی آئی سے تعلق رکھتی ہیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کے تعلق کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
بعد ازاں انہوں نے عندیہ دیا کہ معاملہ پارٹی سے زیادہ عمران خان کے قریبی خاندانی حلقے سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم مشعال یوسفزئی نے اس دعوے کی براہِ راست تردید یا تصدیق نہیں کی۔
مشعال یوسفزئی نے زور دیا کہ تمام حقائق عدالت کے سامنے رکھے جائیں گے اور اپیل کی سماعت کے دوران قانونی دلائل دیے جائیں گے، اس لیے میڈیا پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ اے آر وائی بلغاری پی ٹی آئی توشہ خانہ سیٹ شیر افضل مروت عمران خان مشعال یوسفزئی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ اے ا ر وائی پی ٹی ا ئی توشہ خانہ سیٹ شیر افضل مروت مشعال یوسفزئی مشعال یوسفزئی نے توشہ خانہ 2 کیس شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے دوران کہ ان کے کا نام
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم