توشہ خانہ 2 کیس سے متعلق پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت اور موجودہ رہنما مشعال یوسفزئی کے درمیان ہونے والی گفتگو نے ایک بار پھر اس معاملے کو خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام کے دوران اینکر کے سوالات کے جواب میں دونوں رہنماؤں نے کیس کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا، تاہم مبینہ طور پر تحفے کے اصل رکھنے والے فرد کا نام سامنے نہ آ سکا۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو سیاسی انتقام قرار دے دیا

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق بلغاری کا قیمتی سیٹ بیرون ملک نہیں دیا گیا بلکہ بنی گالا میں سعودی سفیر نے بطور تحفہ پیش کیا تھا۔

ان کے مطابق عمران خان اگر چاہتے تو اس تحفے کو ڈیکلیئر بھی نہ کرتے اور کسی کو علم نہ ہوتا، تاہم ٹرائل کے دوران مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یہ تحفہ واپس کر دیا جائے۔

بلغاری سیٹ بشریٰ بی بی سے کون لے اڑا۔۔۔؟
شیر افضل مروت اور مشعال یوسفزئی نے اہم تفصیلات بتادیں#ARYNews #OffTheRecord pic.

twitter.com/jKep66ItnZ

— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) January 13, 2026

شیر افضل مروت کے بقول بعد ازاں وہ سیٹ بشریٰ بی بی کے پاس نہیں رہا بلکہ ان کے مطابق کوئی اور شخصیت اسے لے گئی، جس کا نام انہوں نے آن ایئر لینے سے گریز کیا۔

اس موقع پر مشعال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے، اس لیے وہ تفصیلات پر بات نہیں کر سکتیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ قیمتی تحفہ اس وقت بشریٰ بی بی کے پاس نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس میں ضمانت پانے والے عمران خان ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار قرار

مشعال یوسفزئی نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی سے منسوب کی جانے والی کئی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا نام بلاوجہ متنازع بنایا گیا ہے۔

گفتگو کے دوران شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی کردار کشی خود پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی جانب سے کی گئی اور اصل ملزمہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے بشریٰ بی بی سے اسے ہتھیالیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے تحمل اور حیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خاتون کا نام نہیں لیا، حالانکہ ان کے بقول اسے عدالتی کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں مسترد

اینکر کے اس سوال پر کہ آیا وہ خاتون پی ٹی آئی سے تعلق رکھتی ہیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کے تعلق کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

بعد ازاں انہوں نے عندیہ دیا کہ معاملہ پارٹی سے زیادہ عمران خان کے قریبی خاندانی حلقے سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم مشعال یوسفزئی نے اس دعوے کی براہِ راست تردید یا تصدیق نہیں کی۔

مشعال یوسفزئی نے زور دیا کہ تمام حقائق عدالت کے سامنے رکھے جائیں گے اور اپیل کی سماعت کے دوران قانونی دلائل دیے جائیں گے، اس لیے میڈیا پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ اے آر وائی بلغاری پی ٹی آئی توشہ خانہ سیٹ شیر افضل مروت عمران خان مشعال یوسفزئی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ اے ا ر وائی پی ٹی ا ئی توشہ خانہ سیٹ شیر افضل مروت مشعال یوسفزئی مشعال یوسفزئی نے توشہ خانہ 2 کیس شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے دوران کہ ان کے کا نام

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار