شاہد کپور کی نئی فلم ’او رومیؤ‘ مشکلات کا شکار، ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
بالی ووڈ اداکار شاہد کپور کی نئی فلم ’او رومیو‘ اپنی ریلیز سے پہلے ہی قانونی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد کپور کی آنے والی فلم ’او رومیؤ‘ کے خلاف ایسے شخص کی بیٹی کی جانب سے فلم سازوں کو قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے جسے فلم کی کہانی کا ممکنہ حقیقی کردار قرار دے رہے ہیں۔
حسین اُسترا کی بیٹی سنوبر شیخ نے فلم کے پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس ارسال کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلم میں ان کے والد کی منفی تصویر کشی کی جاسکتی اور انہوں نے اس بنیاد پر 2 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ اور 7 دن کے اندر رقم ادا کرنے کا تقاضا کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس گزشتہ ہفتے نادیاد والا گرینڈسن انٹرٹینمنٹ کے پروڈیوسر ساجد نادیاد والا اور ہدایت کار وشال بھردواج کو بھیجا گیا ہے۔
نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’او رومیؤ‘ میں حسین اُسترا کو ممکنہ طور پر منفی انداز میں دکھایا گیا ہے، جس سے خاندان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سنوبر شیخ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جب تک ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، فلم کی ریلیز کو روکا جائے یا منسوخ کیا جائے۔
خیال رہے کہ10 جنوری کو جاری کیے گئے فلم کے ٹیزر میں بتایا گیا ہے کہ ’او رومیؤ‘ حقیقی واقعات سے متاثر ہے جب کہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ فلم کی کہانی حسین اُسترا اور سپنا دیدی سے جڑی ہو سکتی ہے، تاہم فلم سازوں نے اب تک کسی حقیقی کردار پر مبنی ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب، تاحال پروڈیوسرز اور ہدایت کار کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ’او رومیؤ‘ میں شاہد کپور، ترپتی ڈمری اور دیگر فنکاروں پر مشتمل بڑی کاسٹ شامل ہے، جب کہ فلم 13 فروری کو سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد کپور او رومیؤ گیا ہے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔