تاریخی وکٹوریا کلاک ٹاور کی خستہ حالی پر ڈپٹی کمشنر کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)تاریخی وکٹوریا کلاک ٹاور کی خستہ حالی پر ڈپٹی کمشنر کو قانونی نوٹس، 15 دن کی مہلت ۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے تاریخی اور ثقافتی ورثے وکٹوریا کلاک ٹاور کی مرمت و بحالی میں مسلسل غفلت پر اتحاد لا چیمبر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد کو باقاعدہ قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹس میںآئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 19-A کے تحت معلومات تک رسائی اور ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داریوں کی یاددہانی کراتے ہوئے 15 دن کے اندر عملی اقدامات اور تفصیلات طلب کی گئی ہیںقانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ برطانوی دور کی یہ تاریخی عمارت جیکب آباد کی شناخت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے، مگر طویل عرصے سے عدم توجہی کے باعث شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ کلاک ٹاور کے ڈھانچے میں دراڑیں، وقت کی مشینری کی خرابی اور مجموعی طور پر ناقص حالت شہریوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے، جبکہ کسی مؤثر بحالی منصوبے یا باقاعدہ مرمت کے آثار نظر نہیں آتے۔نوٹس کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا آئینی حق حاصل ہے کہ کلاک ٹاور کی مرمت کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیکب ا باد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔