Express News:
2026-06-02@22:03:42 GMT

موثر بارڈر مینجمنٹ نے پولیو، دہشتگردی اور اسمگلنگ کا گھیرا تنگ کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ غیر منظم سرحدی نقل و حمل کی روک تھام اور مؤثر باڈر مینجمینٹ نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔

سال 2025 میں یہ فیصلہ نہ صرف انسدادِ پولیو بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہوا۔

پاکستان میں سال 2025 کے دوران پولیو کے مجموعی طور پر صرف 30 کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 59.

5 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کمی محض صحتِ عامہ کی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی باڈر مینجمنٹ پالیسی نے سرحد پار سے آنے والے خطرات کو مؤثر طور پر محدود کر دیا ہے۔

غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی نے سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو کم کر دیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر سخت نگرانی، قانونی آمدورفت کے نظام اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس نے نہ صرف بیماری بلکہ دہشت گردی اور اسمگلنگ کے راستے بھی محدود کر دیے۔

سال 2025 میں خیبر پختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں 19 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم افغان شہریوں کی واپسی اور سیکیورٹی کنٹرول میں بہتری کے باعث ویکسینیشن مہمات پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوئیں۔

پولیو ویکسینیشن مہمات پر فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے 2025 میں صرف 18 حملے رپورٹ ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں کم ہیں۔

سرحدی ضابطوں اور سیکیورٹی انتظامات کے باعث سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز طور خم سرحدی گزرگاہ سے گولا بارود کے 21000 راؤنڈ بھی ضبط کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت سرحدی کنٹرول اور متعین ’’سرخ لکیر‘‘ نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھی توڑ دیا ہے۔

سیکیورٹی میں بہتری اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

غیر قانونی نقل و حرکت میں کمی، اسمگلنگ نیٹ ورکس پر کنڑول اور محفوظ سرحدی ماحول نے تجارتی سرگرمیوں، قانونی تجارت اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

سال 2026 میں مربوط ویکسینیشن، بہتر سیکیورٹی اور سرحدی نگرانی کے باعث ناصرف پولیو بلکہ دہشتگردی کے بھی خاتمے تک پیش رفت جاری رہے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے