موثر بارڈر مینجمنٹ نے پولیو، دہشتگردی اور اسمگلنگ کا گھیرا تنگ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ غیر منظم سرحدی نقل و حمل کی روک تھام اور مؤثر باڈر مینجمینٹ نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔
سال 2025 میں یہ فیصلہ نہ صرف انسدادِ پولیو بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہوا۔
پاکستان میں سال 2025 کے دوران پولیو کے مجموعی طور پر صرف 30 کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 59.
غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی نے سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو کم کر دیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر سخت نگرانی، قانونی آمدورفت کے نظام اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس نے نہ صرف بیماری بلکہ دہشت گردی اور اسمگلنگ کے راستے بھی محدود کر دیے۔
سال 2025 میں خیبر پختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں 19 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم افغان شہریوں کی واپسی اور سیکیورٹی کنٹرول میں بہتری کے باعث ویکسینیشن مہمات پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوئیں۔
پولیو ویکسینیشن مہمات پر فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے 2025 میں صرف 18 حملے رپورٹ ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں کم ہیں۔
سرحدی ضابطوں اور سیکیورٹی انتظامات کے باعث سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز طور خم سرحدی گزرگاہ سے گولا بارود کے 21000 راؤنڈ بھی ضبط کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت سرحدی کنٹرول اور متعین ’’سرخ لکیر‘‘ نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھی توڑ دیا ہے۔
سیکیورٹی میں بہتری اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
غیر قانونی نقل و حرکت میں کمی، اسمگلنگ نیٹ ورکس پر کنڑول اور محفوظ سرحدی ماحول نے تجارتی سرگرمیوں، قانونی تجارت اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔
سال 2026 میں مربوط ویکسینیشن، بہتر سیکیورٹی اور سرحدی نگرانی کے باعث ناصرف پولیو بلکہ دہشتگردی کے بھی خاتمے تک پیش رفت جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎