بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے اور طلبا اور عوامی تحریک کے بعد گزشتہ 16 ماہ کے دوران ملک بھر میں کم از کم 113 صوفی مزارات، درگاہوں اور متعلقہ مذہبی مقامات پر حملے کیے گئے۔

یہ انکشاف تحقیقی اداروں راسا سینٹر اور مکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

تحقیقی نتائج کے مطابق، سب سے زیادہ حملے ڈھاکہ ڈویژن میں ریکارڈ کیے گئے جہاں 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 37 واقعات پیش آئے، جبکہ چٹاگانگ ڈویژن میں 5 اضلاع کے اندر 27 حملے رپورٹ ہوئے۔

محققین کے مطابق ان حملوں میں مزارات کی توڑ پھوڑ، نذرِ آتش کرنا، قیمتی سامان کی لوٹ مار اور زائرین پر تشدد شامل تھا۔ ان واقعات میں خواتین بھی زخمی ہوئیں جبکہ کم از کم 2 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سرکاری اعداد و شمار اور گرفتاریاں

اس سے قبل چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ نے بتایا تھا کہ 4 اگست 2024 سے اگلے ساڑھے 5 ماہ کے دوران ملک بھر میں 40 مزارات، صوفی قبروں اور درگاہوں پر 44 حملے رپورٹ ہوئے۔

پولیس کے مطابق تمام تصدیق شدہ کیسز میں قانونی کارروائی کی گئی، اب تک 23 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔

سب سے ہولناک واقعہ

سب سے سنگین حملہ گزشتہ سال 5 ستمبر کو ضلع راجباڑی کے علاقے گوالندا میں پیش آیا، جہاں خود کو ’توحیدی جنتا‘ کہنے والے ایک گروہ نے نورالحق المعروف بہ نورال پاگل کے مزار پر دھاوا بول دیا۔

حملہ آوروں نے بلند قبر کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیتے ہوئے مزار میں توڑ پھوڑ کی، آگ لگا دی اور قبر سے باقیات نکال کر نذرِ آتش کردیں۔

Bangladesh’s syncretic culture targeted under Yunus-led regime.

Over a 100 Sufi shrines attacked by Islamists who consider Sufism as “anti-Islam”. Few arrests till date — My report ⁦@ETPolitics⁩ ⁦@PankajSaran11⁩ pic.twitter.com/dwemPK8oBV

— Dipanjan R Chaudhury (@DipanjanET) March 5, 2025

اس واقعے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سے مزار بند ہے اور اہلِ خانہ و مریدین کا کہنا ہے کہ وہ خوف و ہراس میں زندگی گزار رہے ہیں۔

نظریاتی محرکات اور انتظامی غفلت کے الزامات

مکام کی تحقیق کے مطابق بیشتر حملے نظریاتی اختلافات کے نتیجے میں کیے گئے، جہاں مزارات کو ’شرک یا بدعت‘ قرار دے کر تشدد کو جواز بنایا گیا۔

ادارے نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ڈھاکہ ڈویژن کے تقریباً 80 فیصد اور چٹاگانگ ڈویژن کے 90 فیصد کیسز میں ایف آئی آر اور گرفتاریوں کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔

تاہم پولیس حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے، پولیس ہیڈکوارٹرز کا کہنا ہے کہ ہر تصدیق شدہ واقعے کو فوجداری جرم کے طور پر لیا گیا اور شواہد کی بنیاد پر مقدمات درج اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

قانونی اقدامات اور خدشات

راسا سینٹر نے ہائیکورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی ہے جس میں نقصان کا تخمینہ تقریباً 5.1 ارب ٹکا لگایا گیا ہے، اس درخواست پر اسی ہفتے سماعت کا امکان ہے۔

وسیع تر اثرات

محققین کے مطابق ان حملوں کے بعد کم از کم 18 مزارات مکمل طور پر ویران ہو چکے ہیں جبکہ 15 مقامات پر سالانہ عرس کی تقریبات معطل کر دی گئی ہیں۔

بعض مزارات سے منسلک مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعات عدم برداشت اور قانون کی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں، جو سیاسی عدم استحکام کے باعث مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔

مختلف مکاتبِ فکر کے مذہبی رہنماؤں نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود قانون ہاتھ میں لینا اسلام میں کسی صورت جائز نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش پٹیشن توحیدی جنتا درگاہ ڈھاکہ ڈویژن راسا سینٹر سول سوسائٹی صوفی مزارات عوامی لیگ مزارات مساجد نورالحق

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پٹیشن توحیدی جنتا درگاہ ڈھاکہ ڈویژن سول سوسائٹی صوفی مزارات عوامی لیگ مزارات نورالحق بنگلہ دیش کے مطابق

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا