کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی اے بی) کے یوتھ ونگ نے بھارت کے اڈانی گروپ کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے 13 اہم نکات پر مشتمل اپنے مطالباتی ایجنڈے میں شامل کیا ہے، جنہیں وہ آئندہ قومی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

یہ مطالبات منگل کے روز ڈھاکہ رپورٹرز یونٹی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آئے، جہاں سی اے بی کی یوتھ پارلیمنٹ نے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے توانائی اور بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عہد کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم

توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا ایجنڈا

سی اے بی کے یوتھ ونگ نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی فراہمی سے متعلق فوری فیصلوں کی اجازت دینے والے خصوصی قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس قانون کے تحت کیے گئے تمام معاہدے اور لائسنس ختم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی مزید توسیع روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

یوتھ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی اور بنیادی توانائی کو منافع بخش کاروبار کے بجائے عوامی خدمات کے شعبے کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ لاگت پر مبنی نرخ مقرر ہوں اور غیر منافع بخش عوامی سروس فراہم کی جا سکے۔

فوسل فیول سے دوری کی تجویز

13 نکاتی منشور میں آئندہ حکومت کے دور میں توانائی کی بہتر بچت اور مؤثر استعمال کے ذریعے فوسل فیول کی درآمدات میں کم از کم 5 فیصد کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 5 برسوں میں شمسی توانائی کے فروغ کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اوسطاً 15 فیصد اضافہ کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں چھوٹی صنعتوں کو ترجیح دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور

سی اے بی کے یوتھ ونگ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات میں اضافے پر 5 سالہ پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ملکی گیس کی تلاش اور احتساب

تحریری بیان میں یوتھ پارلیمنٹ نے کہا کہ زمینی حدود میں گیس کی 100 فیصد تلاش اور پیداوار ریاستی اور مقامی اداروں، بشمول بیپیکس، کے ذریعے کی جائے اور اس کے لیے گیس ڈیولپمنٹ فنڈ سے رقوم فراہم کی جائیں، جبکہ تمام منصوبے عوامی سماعت کے بعد شروع کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

بیان میں متنازع توانائی معاہدوں کے باعث ریاست کو ہونے والے مالی نقصانات کی وصولی اور توانائی کے شعبے میں کرپشن اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا، جنہیں توانائی مجرم قرار دیا گیا۔

سیاسی جماعتوں سے اپیل

سی اے بی نے کہا کہ وہ توقع کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار ان مطالبات کو مجوزہ انرجی ٹرانزیشن پالیسی 2024 کے تناظر میں سنجیدگی سے غور میں لیں گے، کیونکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ‘منصفانہ توانائی منتقلی’ ناگزیر ہے۔

پریس کانفرنس کی نظامت ڈھاکہ یونیورسٹی کی طالبہ نوشین جہاں تقیہ نے کی، جبکہ تحریری بیان ڈھاکہ یونیورسٹی اور برَیک یونیورسٹی کے طلبہ نے پیش کیا۔ اس موقع پر سی اے بی کے توانائی کے مشیر ایم شمس العالم بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش ڈھاکا سیاسی جماعت مطالبات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا سیاسی جماعت مطالبات توانائی کے مطالبہ کیا بنگلہ دیش کا مطالبہ سی اے بی کے شعبے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان