کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کا بھارت کے اڈانی گروپ کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی اے بی) کے یوتھ ونگ نے بھارت کے اڈانی گروپ کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے 13 اہم نکات پر مشتمل اپنے مطالباتی ایجنڈے میں شامل کیا ہے، جنہیں وہ آئندہ قومی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
یہ مطالبات منگل کے روز ڈھاکہ رپورٹرز یونٹی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آئے، جہاں سی اے بی کی یوتھ پارلیمنٹ نے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے توانائی اور بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عہد کرنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا ایجنڈاسی اے بی کے یوتھ ونگ نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی فراہمی سے متعلق فوری فیصلوں کی اجازت دینے والے خصوصی قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس قانون کے تحت کیے گئے تمام معاہدے اور لائسنس ختم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی مزید توسیع روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
یوتھ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی اور بنیادی توانائی کو منافع بخش کاروبار کے بجائے عوامی خدمات کے شعبے کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ لاگت پر مبنی نرخ مقرر ہوں اور غیر منافع بخش عوامی سروس فراہم کی جا سکے۔
فوسل فیول سے دوری کی تجویز13 نکاتی منشور میں آئندہ حکومت کے دور میں توانائی کی بہتر بچت اور مؤثر استعمال کے ذریعے فوسل فیول کی درآمدات میں کم از کم 5 فیصد کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 5 برسوں میں شمسی توانائی کے فروغ کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اوسطاً 15 فیصد اضافہ کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں چھوٹی صنعتوں کو ترجیح دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
سی اے بی کے یوتھ ونگ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات میں اضافے پر 5 سالہ پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ملکی گیس کی تلاش اور احتسابتحریری بیان میں یوتھ پارلیمنٹ نے کہا کہ زمینی حدود میں گیس کی 100 فیصد تلاش اور پیداوار ریاستی اور مقامی اداروں، بشمول بیپیکس، کے ذریعے کی جائے اور اس کے لیے گیس ڈیولپمنٹ فنڈ سے رقوم فراہم کی جائیں، جبکہ تمام منصوبے عوامی سماعت کے بعد شروع کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی
بیان میں متنازع توانائی معاہدوں کے باعث ریاست کو ہونے والے مالی نقصانات کی وصولی اور توانائی کے شعبے میں کرپشن اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا، جنہیں توانائی مجرم قرار دیا گیا۔
سیاسی جماعتوں سے اپیلسی اے بی نے کہا کہ وہ توقع کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار ان مطالبات کو مجوزہ انرجی ٹرانزیشن پالیسی 2024 کے تناظر میں سنجیدگی سے غور میں لیں گے، کیونکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ‘منصفانہ توانائی منتقلی’ ناگزیر ہے۔
پریس کانفرنس کی نظامت ڈھاکہ یونیورسٹی کی طالبہ نوشین جہاں تقیہ نے کی، جبکہ تحریری بیان ڈھاکہ یونیورسٹی اور برَیک یونیورسٹی کے طلبہ نے پیش کیا۔ اس موقع پر سی اے بی کے توانائی کے مشیر ایم شمس العالم بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ڈھاکا سیاسی جماعت مطالبات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا سیاسی جماعت مطالبات توانائی کے مطالبہ کیا بنگلہ دیش کا مطالبہ سی اے بی کے شعبے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔