مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، شادی کارڈ کے مطابق ولیمہ کی تقریب 18 جنوری 2026 کو جاتی امرا میں منعقد ہوگی۔
مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ۔۔!! pic.twitter.com/OxQZOiT4XN
— Khurram Iqbal (@khurram143) January 14, 2026
سابق وزیراعظم نواز شریف بھی دسمبر میں اپنے نواسے جنید صفدر کی شادی کے سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ دبئی روانہ ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مریم نواز کے صاحبزادے کی شادی کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ جنید صفدر کی ہونے والی اہلیہ شانزے شیخ روحیل اصغر کی پوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر پھر دلہا بننے کو تیار، دلہن کون ہے؟
شیخ روحیل اصغر نے بتایا تھا کہ ان کی پوتی کی شادی 16، 17، 18 جنوری کو ہو گی، شادی عوام قسم کا جلسہ نہیں ہوگی، دلہا، دلہن کی مہندی کی تقریب جاتی امرا میں ہوگی، بارات لیک سٹی میں ہوگی جبکہ ولیمہ بھی جاتی امرا میں ہوگا۔
یاد رہے کہ جنید صفدر کی اس سے قبل شادی معروف کاروباری شخصیت سیف الرحمان کی صاحبزادی سے ہوئی تھی، جو اکتوبر 2023 میں طلاق پر ختم ہوگئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاتی امرا جنید صفدر جنید صفدر شادی جنید صفدر شادی کارڈ دبئی مریم نواز نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاتی امرا جنید صفدر شادی کارڈ مریم نواز نواز شریف مریم نواز کے جنید صفدر کی جاتی امرا شادی کا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔