ملک کی ہونہار بیٹی ارفع کریم کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) ملک کی ہونہار بیٹی ارفع کریم کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس بیت گئے۔
ارفع کریم نے خداداد صلاحیتوں کے ذریعے آئی ٹی کے میدان میں پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، انہیں کم عمری میں ہی پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
1995ء میں فیصل آباد کے گاؤں چک 2 جے بی رام دیوالی میں پیدا ہونے والی ارفع کریم وہ پہلی بچی تھیں جنہوں نے آئی ٹی کی دنیا میں ناصرف اپنا بلکہ ملک کا نام دنیا بھر میں روشناس کیا۔
ارفع کریم نے صرف 9 برس کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچایا۔
مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی جانب سے ارفع کو 2005ء میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا جس کے بعد مائیکرو سافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس نے ارفع کریم کو خصوصی طور پر امریکا بلا کر ان سے ملاقات بھی کی۔
ارفع کریم نے کم عمری میں ہی فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سمیت کئی اعزازات حاصل کئے۔
دنیا کی کم عمر ترین آئی ٹی مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ارفع کریم 14 جنوری 2012ء کو صرف 16 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئی تھی۔
ارفع کریم کے قابل ستائش اور عظیم کارنامے پر پنجاب حکومت کی جانب سے آئی ٹی ٹاور کے نام کو ارفع کریم کے نام سے منسوب کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مائیکرو سافٹ آئی ٹی
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔